انٹرنیشنل

کشمیری رہنما یاسین ملک پرفردجرم عائد،مقدمہ کیا بنایا گیا؟

اغوا کے مقدمے میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک سمیت 10 افراد پر فرد جرم عائد کردی

بھارت کی خصوصی عدالت نے 31سال پرانے اغوا کے مقدمے میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک سمیت 10 افراد پر فرد جرم عائد کردی۔ بھارت کی خصوصی ٹاڈا عدالت کے جج نے 1989 میں اس وقت کے یونین ہوم منسٹر کی صاحبزادی ربیعہ سعید کی اغوا کے الزام میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔ یاسین ملک کے ساتھ ساتھ علی محمد میر، محمد زمان میر، اقبال احمد گندرو، جاوید احمد میر، محمد رفیق پھلو، منظور احمد صوفی، وجاہت بشیر، معراج الدین شیخ اور شوک احمد بخشی پر بھی فرد جرم عائد کی گئی۔

بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق محمد زمان میر اور علی محمد میر کی جانب سے سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت ان کی شمولیت اور دوسرے ملزم کے کردار کے بارے میں مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جج نے مشاہدہ کیا کہ ان کا خیال ہے کہ بادی النظر میں اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں کہ یاسین ملک، علی محمد میر، اقبال احمد گندرو، منظور احمد صوفی، مہراج الدین شیخ اور رفیق احمد پھلو نے ربیعہ کو قتل کے مقصد سے اغوا کرنے اور کے جرم کا ارتکاب کیا اور دہشت گردی اور خلل ڈالنے والی سرگرمی(ٹی اے ڈی اے) ایکٹ اور ہندوستانی اسلحہ ایکٹ کے علاوہ رنبیر پینل کوڈ کی دفعات کے تحت انہیں حبس بے جا میں رکھا۔ دوسرے ملزموں محمد زمان میر، جاوید احمد میر، وجاہت بشیر اور شوکت احمد بخشی پر مجرمانہ سازش کا الزام عائد کیا گیا جہاں انہوں نے ربیعہ کو غلط انداز میں قید میں رکھا۔

ٹاڈا عدالت کے روبرو دائر چارج شیٹ میں سی بی آئی کے ذریعہ نامزد دو درجن ملزمان میں سے 10 ملزمان شامل ہیں، محمد رفیق ڈار اور مشتاق احمد لون جاں بحق مر چکے ہیں جبکہ 12 دیگر مفرور ہیں۔ مفرور افراد میں حلیمہ، جاوید اقبال میر، محمد یعقوب پنڈت، ریاض احمد بھٹ، خورشید احمد ڈار، بشارت رحمٰن نوری، طارق اشرف، شفقت احمد شانگلو، منظور احمد، غلام محمد تپلو، عبدالمجید بھٹ اور نصر احمد بھٹ شامل ہیں۔ سی بی آئی کی چارج شیٹ کے مطابق ملزم نے دسمبر 1989 کے پہلے ہفتے میں سری نگر کے لال داد ہسپتال میں تریت کرنے والی ربیعہ کے اغوا کی مجرمانہ سازش کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ مختلف جیلوں میں قید اپنے پانچ ساتھیوں کی رہائی کو یقینی بنایا جاسکے۔

سی بی آئی کی چارج شیٹ میں کہا گیا کہ انہوں نے ملزمان میں سے ایک غلام محمد اور ان میں سے کچھ افراد سے ایک نیلی کار لی اور 8دسمبر 1989 کو ملزم مشتاق احمد لون کے گھر جمع ہوئے اور ربیعہ کو اس وقت اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا جب وہ سری نگر کے نوگام بائی پاس میں واقع ہسپتال سے رہائشگاہ واپسی پر اکیلی ہوتی تھیں۔ سی بی آئی کے مطابق اس کے بعد محمد زمان میر کے علاوہ تمام ملزمان ہسپتال کے گیٹ پر پہنچے اور چھوٹے گروپوں میں تقسیم ہو گئے، ربیعہ کی شناخت کرنے کے لیے ملزم یاسین ملک نے اس کی طرف اشارہ کیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ملزم نےبندوق کی نوک پروہ منی بس روک لی جس میں وزیرکی بیٹی سفرکررہی تھی،ربیعہ کوایک کارمیں سوار کیا گیا اوران کواس وقت تک قید میں رکھا گیا جب تک اس کی رہائی کےبدلےمختلف جیلوں میں قید ان کےپانچ ساتھیوں رہا نہیں کردیا گیا۔ دوسری جانب کشمیرمیڈیا سروس سےجاری بیان میں 30سال سےزائد پرانےمقدمےمیں فرد جرم عائد کیےجانےکی مذمت کی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہندوستان کی خصوصی ٹاڈا نے تین دہائی پرانے فرضی مقدمے میں غیرقانونی طورپرنظربند جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک پر جعلی الزامات عائد کیے۔

متعلقہ خبریں