انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

پورے برطانیہ میں کرفیو لگا دیا گیا‘ دنیا بھر سے رابطہ ختم‘ تشویشناک وجوہات نے دنیا بھر میں کو 11000 وولٹ کا جھٹکا دے دیا

برطانیہ واحد ملک کہا جا سکتا ہے جس نے کورونا کے دنوں میں سب سے زیادہ اورسخت ترین لاک ڈاؤن کیے

کورونا وائرس پھیلانے کی وجہ سے پورے برطانیہ میں کرفیو لگا دیا گیا‘ دنیا بھر سے رابطہ ختم‘ تشویشناک وجوہات نے دنیا بھر میں کو 11000 وولٹ کا جھٹکا دے دیا۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق کورونا تھمنے کا نام نہیں لے رہااور خاص طور پر جب سے اس کی نئی قسم سامنے آئی ہے تب سے تو خوف اور زیادہ ہو گیا ہے۔کورونا مریض اور اموات کے سلسلے میں خاص طور پر نئی قسم کے پھوٹنے کے حوالے سے برطانیہ سرفہرست جا رہاہے۔ہر قسم کی احتیاط اور جملہ علاج کے باوجود برطانیہ میں کورونا کا پھیلا بڑھتا جا رہا ہے۔ برطانیہ واحد ملک کہا جا سکتا ہے جس نے کورونا کے دنوں میں سب سے زیادہ اورسخت ترین لاک ڈاؤن کیے اور ان لوگوں کو سزائیں بھی دیں جنہوں نے لاک ڈان کی خلاف ورزی کی۔تاہم ابھی بھی برطانیہ میں یہ موذی وبا کنٹرول ہونے میں نہیں آ رہی۔اس وقت بھی برطانیہ بھر میں سخت لاک ڈان نافذ ہے اور بچوں کے اسکول تک نہیں کھولے گئے لہذا اب وزیراعظم بورس جانسن نے ایک اور سخت فیصلہ کیا ہے کہ لندن کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے کہ بیرون ملک سے کوئی بھی لندن نہیں آ سکے گااور نہ ہی کوئی لندن سے باہر جا سکے گا۔

بورس جانسن نے کہا ہے کہ آمدہ سوموار18جنوری سے ہر قسم کا فلائٹ آپریشن بند کر دیا جائے گااور اس کا اطلاق اگلے مہینے کی 15تاریخ تک رہے گا۔بزنس ٹور سے لے کر نجی ٹورز تک ہر قسم کی آمدورفت برطانیہ میں بند رہے گی۔جب کہ اس سے قبل اگر کوئی بھی بیرون ملک سے تشریف لارہا تھاتو اس نے نیگیٹو رپورٹ بھی دکھانا ہوتی تھی۔جبکہ پرتگال اور ساتھ امریکا کی طرف سے آنے والے مسافروں میں کورونا کی نئی قسم کی تشخیص کے بعد سے برطانوی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بیرون ممالک کی تمام فلائٹس کو بین کر دیا جائے لہذا وزیراعظم بورس جانسن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم اپنے عوام کو محفوظ بنانے کے لیے ہر قسم کے اقدامات کرنے جا رہے ہیں،چونکہ کورونا کا پھیلا تیز ہو رہا ہے اس لیے ہمیں بھی مزید سخت فیصلے کرنا ہوں گے جس سلسلے میں ہر قسم کے کوریڈورز سوموار سے بند کر دیے جائیں گے۔اس کے بعد اگر کوئی برطانیہ آئے گاتو اسے دس دن کا قرنطینہ بھگتنا ہوں گاجبکہ پانچ دن بعد کورونا کا نیگیٹو ٹیسٹ بھی کروانا ہو گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ28دنوں میں برطانیہ میں 1280افراد کورونا کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ ستاسی ہزار سے زائد مریضوں میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔دنیا بھر میں اس وقت دو ملین سے زائد افراد کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور ابھی یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button