انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

ایران اگر یہ کام کر کے دکھا دے تو اس کے ساتھ یہ معاہدہ ہوسکتا ہے‘ جوبائیڈن انتظامیہ نے بڑی خوشخبری سنا کر سب کو حیران کر دیا

ایران عالمی برادری سے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کیے گئے اپنے وعدوں پر کاربند رہے تو پھر اس کیساتھ جوہری معاہدے کو بحال کر دیگا

جوبائیڈن انتظامیہ نے بڑی خوشخبری سناتے ہوئے سب کو حیران کر دیا ہے کہ اگر ایران یہ کام کر کے دکھا دے تو اس کے ساتھ یہ معاہدہ ہوسکتا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق امریکہ کے صدر جوبائیڈن کی قیادت میں نئی امریکی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ایران عالمی برادری سے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کیے گئے اپنے وعدوں پر کاربند رہے تو پھر امریکہ اس کے ساتھ جوہری معاہدے کو بحال کر دے گا۔ خیال رہے کہ امریکہ نے 2015 میں ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو روکنے پر آمادہ ہو گیا تھا۔ تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے براک اوباما انتظامیہ کی طرف سے کیے گئے اس معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں۔

امریکہ کے وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکہ صرف ایک ہی صورت میں 2015 کے اس معاہدے کی بحالی کی طرف جائے اگر تہران اس حوالے سے کیے گیے وعدوں پر پوری طرح پاسداری کرے۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ تصدیق کا یہ مرحلہ طویل بھی ہو سکتا ہے۔ اپنا عہدے سنبھالنے کے ایک دن بعد ہی امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے تصدیق کی ہے کہ صدر جو بائیڈن اپنے پیش رو صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ختم کیے جانے والے جوہری معاہدے کی بحالی کے خواہاں ہیں مگر انھوں نے کہا کہ وہ ایران کی طرف سے اس دبا کو مسترد کرتے ہیں جس میں امریکہ سے پہل کرنے کا کہا گیا تھا۔ نئے امریکہ وزیر خارجہ نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کئی پہلوں سے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کو اپنے وعدوں پر واپس آنے میں کچھ وقت لگے اور پھر اس کے بعد امریکہ کو ایران کی طرف سے اس حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لینے میں بھی وقت لگے گا۔ اس وقت ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابھی ہم اس (معاہدے کی بحالی)کے قریب نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button