انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

ایک جاننے والے نے میرے ہی بستر پر میرے ساتھ ریپ کر ڈالا، روح تڑپا دینے والی کہانی سے پردہ اٹھ گیا

میں ریپ کے بعد بھی زندہ ہوں۔ مجھے اپنے لیے ریپ سے متاثرہ' خاتون ہونے کی بجائے ریپ کے بعد بچ جانے والی خاتون کا لفظ زیادہ ٹھیک لگتا ہے

مارتھا ایک گھر میں شیئرنگ کی بنیاد پر رہ رہی تھیں جب ان کے ایک جاننے والے مرد نے انھیں ان ہی کے بستر میں ریپ کا نشانہ بنایااس حوالے سے اہم خبر آگئی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق مارتھا کے ایک گھر میں زیادتی ہوئی ان کے اعتماد کو پہنچنے والی اس ٹھیس کے بعد ان کے لیے غصے، غیر یقینی اور صدمے کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ یہاں وہ اپنے الفاظ میں انصاف کی جدوجہد اور ریپ کے اپنے تعلقات اور ذہنی صحت پر اثرات کی روداد سنا رہی ہیں۔ میں ریپ کے بعد بھی زندہ ہوں۔ مجھے اپنے لیے ریپ سے متاثرہ’ خاتون ہونے کی بجائے ریپ کے بعد بچ جانے والی خاتون کا لفظ زیادہ ٹھیک لگتا ہے۔ مگر مجھے اس لفظ ریپ کے بعد بچ جانے والی خاتون کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہونے میں کافی وقت لگا۔

(ریپ کے بعد)زندہ بچ جانا یہ لفظ بہت اچھا محسوس ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی زلزلے کی زد میں آ جاتے ہیں تو آپ خود کو ملبے سے گھسیٹ کر نکالتے ہیں۔ مگر میں یہ لفظ اس لیے استعمال کرتی ہوں کیونکہ یہ زیادہ ہمت افزا ہے۔ ریپ سے متاثرہ ہونے کا لفظ کمزوری کی عکاسی کرتا ہے۔ اس لفظ میں کوئی قوت نہیں ہے۔ کبھی کبھی مجھے یہ لفظ سروائیور بھی پسند نہیں آتا کیونکہ اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ کو اس سے زیادہ مسئلہ نہیں ہے۔ کبھی کبھی میں خود کو سروائیور بھی نہیں سمجھتی۔

حملے کے فورا بعد میں بہت زیادہ کانپ رہی تھی اور اگلی صبح میرا ذہن بالکل ماف ہو گیا تھا۔ اس دن میں کام پر گئی تھی مگر مجھے اس دن کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ بھی یاد نہیں۔ کچھ دن بعد میں نے ایک دوست کو دیکھا تو میں نے اسے بتایا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ میں نے نہ کہا تھا مگر وہ نہیں رکا۔ میرے دوست نے مجھے گلے سے لگایا اور کہا کہ میرا ریپ کیا گیا ہے۔ شروع میں تو میں نے اس بات کو مسترد کر دیا۔ میرا ایک تعلق حال ہی میں ختم ہوا تھا اس لیے مجھے اس سے ہونے والے درد کا زیادہ احساس تھا۔ مگر ایک ہفتے بعد میں کام پر رو پڑی اور میں نے ایک دوست سے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ میں تعلق کے خاتمے سے ٹھیک انداز میں نمٹ رہی ہوں اور یہ کہ میرا ریپ کیا گیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ میں نے یہ بات کہی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button