انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

سکولوں میں لنچ میں گوشت کی بجائے سبزیاں پر مبنی کھانا فراہم کرنے کا فیصلہ‘ فرانس میں انوکھی نے لڑائی نے ملک بھر میں سنسنی پھیلا کررکھ دی ہے

فرانس کے اسکولوں میں لنچ میں گوشت کو ہٹا کر سبزی پر مبنی کھانا فراہم کرنے کے ایک فیصلے پر سیاست دانوں میں گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے

سکولوں میں لنچ میں گوشت کی بجائے سبزیاں پر مبنی کھانا فراہم کرنے کا فیصلہ‘ فرانس میں انوکھی نے لڑائی نے ملک بھر میں سنسنی پھیلا کررکھ دی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق فرانس کے شہر لیون کے اسکولوں میں لنچ میں گوشت کو ہٹا کر سبزی پر مبنی کھانا فراہم کرنے کے ایک فیصلے پر سیاست دانوں میں گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے۔ فرانس کے وزیر داخلہ گیرالڈ درامینن نے اس فیصلے پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسانوں اور قصابوں کی ”ناقابل قبول” توہین ہے۔

فرانس کا لیون شہر گوشت کے انواع و اقسام کے اپنے کھانوں کے لیے معروف ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد اس شہر کو پکوانوں کا دارالحکومت بھی کہتی ہے۔ فرانس کے وزیر داخلہ کا کہنا تھا، ”ہم عام طبقے کو شامل نہ کرنے کے گرین پارٹی کے اخلاقی درس اور اشرافیہ پالیسی کو دیکھ سکتے ہیں۔ بہت سے بچوں کو تو اکثر اوقات گوشت پر مبنی غذا اسکول کی کینٹین میں ہی میسر ہوتی ہے۔”

لیون کے میئر اور گرین پارٹی کے رکن گریگری ڈیوسٹ نے اس فیصلے کا یہ کہہ کر دفاع کیا ہے کہ کورونا کی وبا کے دور میں سبزیوں کا استعمال بہتر متبادل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکول میں لنچ کے دوران سبزی والے کھانوں میں وقت کم لگتا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ان اقدامات کو محض وبا کی صورت حال کی وجہ سے اپنایا گیا ہے اور کورونا کی پہلی لہر کے وقت بھی ان کے پیش رو میئر نے ایسے ہی اقدامات کا اعلان کیا تھا۔

ڈیوسٹ کا کہنا تھا، ”ان اقدامات کے تحت اب بھی مچھلی اور انڈے لنچ میں شامل ہیں اور اس سے ہمارے بچوں میں غذا کا توازن برقرار رہے گا۔” تاہم اس وضاحت کے باوجود بہت سے سیاست داں شہری انتظامیہ کے اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔فرانس کے وزیر زراعت جولیئن ڈینورمیندی نے اپنے ایک ٹویٹ کہا، ”بچوں کے پلیٹ میں ہمیں اپنے نظریات نہیں پیش کرنے چاہیں۔ ہمیں انہیں وہ پیش کرنا چاہیے جو ان کی نشو و نما کے لیے ضروری ہے۔ اور گوشت بھی اس کا حصہ ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ گوشت کے بغیر لنچ فراہم کرنے کا مقامی انتظامیہ کا جو فیصلہ ہے اسے مسترد کرنے کے لیے انہوں نے ایک متعلقہ مقامی ادارے کو حکم دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ ادارہ اس معاملے پر غور کر رہا ہے اور وزارت زراعت کے قوانین پر عمل کو یقینی بنائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button