انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

آپ کو پناہ تو دی جا سکتی ہے لیکن آپ کو جیل جانا پڑے گا‘ مسلمانوں پر ظلم و ستم کی المناک داستان کھل کر سامنے آگئی

بنگلہ دیشی حکومت بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں، انسانی حقوق کے گروہوں اور صحافیوں کو اس جزیرے تک رسائی نہیں دیتی ہے

آپ کو پناہ تو دی جا سکتی ہے لیکن آپ کو جیل جانا پڑے گا‘ مسلمانوں پر ظلم وستم کی المناک داستان کھل کر سامنے آگئی جس کے بعد پوری دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھاسن چار کے جزیرے پر پہنچنے کے ایک دن بعد تقریبا آدھی رات کے وقت حاملہ حلیمہ کو دردِ زہ شروع ہو گیا۔ وہ اور ان کا خاندان روہنگیا پناہ گزینوں کے اس گروہ میں شامل ہیں جنھیں حال ہی میں بنگلہ دیش کی حکومت کے ایک پروگرام کے تحت نئی زندگی گزارنے کے لیے اس جزیرے پر لایا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ خوفزدہ تھیں اور بہت بے یار و مددگار محسوس کر رہی تھیں۔ میں نے اللہ سے رحم کی بھیک مانگی۔ بنگلہ دیشی حکومت بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں، انسانی حقوق کے گروہوں اور صحافیوں کو اس جزیرے تک رسائی نہیں دیتی ہے لیکن بی بی سی نے بنگلہ دیش کے ساحل سے کچھ پرے، اس جزیرے پر بنائے گئے نئے کیمپ کے کچھ پناہ گزینوں کے ساتھ فون کے ذریعے بات کی۔

ان انٹرویوز میں جزیرے پر بنیادی ضرورتوں کے فقدان اور ملازتوں کے مواقع نہ ہونے پر ان پناہ گزینوں میں بڑھتا ہوا غصہ صاف محسوس ہوتا ہے۔ جب حلیمہ یہاں پہنچی تو بھاسن چار جزیرے میں بہت سردی تھی۔ انھیں پتہ تھا کہ یہاں کسی ڈاکٹر یا نرس کو تلاش کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ مجھے پہلے بھی بچوں کی پیدائش کا تجربہ ہے، لیکن اس مرتبہ یہ بہت برا تھا۔ میں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ وہ کتنی تکلیف دہ تھی۔ ان کے شوہر، عنایت، اسی بلاک میں رہنے والی ایک روہنگیا خاتون کو لینے کے لیے بھاگے، جس کے پاس دائی کا کام کرنے کا کچھ تجربہ اور تربیت تھی۔ حلیمہ کہتی ہیں کہ خدا نے میری مدد کی۔ ان کے ہاں ایک بچی کی ولادت ہوئی جس کا نام انھوں نے فاطمہ رکھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button