انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

بڑے بڑوں کے بے نقاب ہونے کا وقت آگیا، ایسا قانون پاس کر دیا گیا کہ دوسری شادی کرنے والے سر پکڑ کر بیٹھ گئے

ازدواجی زندگی کے بارے نیا قانون متعارف کرایا، مرد حضرات کے لئے دوسری شادی کو راز رکھنا قانونا جرم ہوگا

بڑے بڑوں کے بے نقاب ہونے کا وقت آگیا، ایسا قانون پاس کر دیا گیا کہ دوسری شادی کرنے والے سر پکڑ کر بیٹھ گئے جس کے تمام مرد سوچ میں پڑ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مصر افریقہ کے شمال مشرق میں واقع ایک اسلامی ملک ہے جس کا دار الخلافہ قاہرہ ہے۔ اس ملک میں شیعوں کی آبادی اقلیتی تعداد میں ہے۔ یہ سر زمین سنہ 20 ہجری میں عمرو بن عاص کی سربراہی میں فتح ہوئی۔دور جدید میں تبدیلیوں کی وجہ سے اب اس ملک نے ازدواجی زندگی کے بارے نیا قانون متعارف کرایا، مرد حضرات کے لئے دوسری شادی کو راز رکھنا قانونا جرم ہوگا، اس حوالے سے مصر کی حکومت نے قید اور بھاری جرمانیکی سزا کا قانون تیار کیا۔

مصر نے 58 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ قانون حکومت کی جانب سے پیش کردیا گیا ہیجس کے تحت مرد کو دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے پیشگی اجازت لینا ہوگی، پہلی بیوی کی منظوری کے بغیر یا دوسری شادی کو راز میں رکھنے پر سزاں کا تعین کیا گیا ہے۔ تیار کئے گئے مسودہ قانون میں واضح کیاگیا کہ اگر مرد دوسری شادی پہلی بیوی سے پوچھے بغیرکرے گا تو سزا کا حقدار ہوگا، اس ضمن میں اس کو 1 سال قید اور 2 تا 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا اور بعض صورتوں میں قید اور جرمانہ دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔علاوہ ازیں نکاح خواں کو بھی برابر کا شریک جرم تصور کیاجائے گا اور اس کوبھی 1سال قید اور جرمانہ ہوگا،نئے مسودہ قانون میں شادی کیلییلڑکے اور لڑکی کی کم سیکم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔ مصر کی تاریخ میں اس قانون میں مزید واضح کیاگیا کہ 18سال سیکم عمرافراد کی شادی کرانے پر 1سال قید اور 2 تا 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔نئے قانون میں پہلی بیوی کو شوہر سے طلاق لینے کا قانونی حق بھی دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button