انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

لوگوں کو چوم کر کورونا وائرس جیسی موذی وباء کا علاج کرنے والے کون سے انجام کو پہنچا؟ المناک کہانی منظر عام پر آ گئی

ایک شخص، جن کا دعوی تھا کہ وہ کوویڈ-19 سمیت تمام بیماریوں کا علاج لوگوں کے ہاتھ چوم کر کر سکتے ہیں،وفات پا گئے ہیں

لوگوں کو چوم کر کورونا وائرس جیسی موذی وباء کا علاج کرنے والے کون سے انجام کو پہنچا؟ اس حوالے سے ایک المناک کہانی منظر عام پر آ گئی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے، اسلم نامی شخص کا دعوی تھا کہ وہ لوگوں کی تمام بیماریوں کا علاج ان کے ہاتھ چوم کر کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے اسلم کا یہ حیرت انگیز طریقہ علاج کورونا وائرس کے خلاف موثر ثابت نہیں ہوا۔ 3 جون کو انہیں کورونا تشخیص ہوا اور اگلے دن ہی وہ وفات پا گئے۔اسلم کی وفات کے بعد ان کے پیروکار بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اسلم کے ہاتھوں کے بوسہ لینے کے باعث لوگوں کے کورونا کا علاج تو نہیں ہوا لیکن اس سے بہت سے لوگوں میں کورونا پھیلاضرور ہے۔

اسلم میں کورونا کی تشخیص کی خبر سن کر علاقے کے حکام نے ان تمام افراد کو تلاش کرنا شروع کر دیا، جنہوں نے ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا تھا۔ سامنے آنے والے 40 افراد کے ٹسٹ ہوئے توان میں سے 20 کورونا سے متاثر نکلے۔9 جون کو رتلام میں کورونا کے 24 کیسز تھے۔ ان میں سے 13 اسلم کے ساتھ قریبی رابطے میں تھے۔ اسلم کے گھر کے 7 افرادبھی کورونا سے متاثر نکلے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسی مزید 29 نام نہاد روحانی شخصیات کو تلاش کر لیا ہے جو کورونا کے علاج کے نام پر اس کے پھیلا کا باعث بن رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button