انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

ابو کیا یہ سچ ہے کہ آپ نے سینکڑوں افراد کا قتل کیا؟ مقتولین کو انصاف دلانے کے لئے بیٹیاں میدان میں نکل آئیں‘ ورثا کو انصاف ملنے کے قوی امکان

ارجنٹینا میں چند نوجوان خواتین کے ایک گروہ کے لیے یہ ایک ایسا سوال بن گیا تھا کہ جسے وہ نظر انداز نہیں کر سکتی تھیں

ابو کیا یہ سچ ہے کہ آپ نے سینکڑوں افراد کا قتل کیا؟ مقتولین کو انصاف دلانے کے لئے بیٹیاں میدان میں نکل آئیں‘ ورثا کو انصاف ملنے کے قوی امکان ظاہر ہو گیا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق ابو کیا آپ نے واقعی سینکڑوں لوگوں کو قتل کیا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال نہیں جو بہت سے لوگ اپنے والدین سے پوچھنا چاہیں گے لیکن ارجنٹینا میں چند نوجوان خواتین کے ایک گروہ کے لیے یہ ایک ایسا سوال بن گیا تھا کہ جسے وہ نظر انداز نہیں کر سکتی تھیں۔ جب اگست کی ایک شام کو انالیا کالینیک کے گھر فون کی گھنٹی بجی تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ یہ فون کال ان کے خاندان کا شیرازہ بکھیر دے گی۔ وہ ان کی والدہ کی کال تھی۔ انھوں نے بتایا دیکھو پریشان نہ ہونا، ابو جیل میں ہیں۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ فکر نہ کرو، یہ صرف سیاست ہے۔ اس فون کال سے پہلے میں نے کبھی اپنے والد کی نوکری کو آمریت سے نہیں جوڑا تھا۔ دور دور تک بھی نہیں۔۔۔ انالیا کے والد ایڈوارڈو ایمیلیو کالینیک پولیس کے سابق افسر تھے جو سنہ 1976 سے 1983 کے دوران فوج کے دور حکومت میں ملازم رہے تھے۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں جن میں فوجی دور کے حراستی مراکز میں گرفتاری، تشدد اور قتل کے 180 مقدمات شامل ہیں۔

سات برس تک قائم رہنے والے فوجی دورِ حکومت میں نظریاتی طور پر اختلاف رکھنے والے کمیونسٹ، سوشلسٹ، یونین لیڈرز، طلبہ اور فنکاروں سمیت ہر اس شخص کو ختم کیا گیا جسے فوج خطرہ سجھتی تھی۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اس دوران کالینیک جیسے سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں تقریبا 30 ہزار افراد کو اغوا کر کے غیر قانونی طور پر قید میں ڈالا گیا لیکن سنہ 2005 تک انالیا کو اپنے والد کے اس خفیہ راز کا ہلکا سا اشارہ بھی نہیں تھا۔ جب انھیں والدہ کی فون کال آئی تو اس وقت ان کی عمر 25 برس تھی۔ کالینیک کو حراست میں لے لیا گیا اور ان کی اہلیہ کی امید کے باوجود انھیں کبھی رہا نہیں کیا گیا۔ سنہ 2010 میں انھیں انسانی حقوق کی پامالی کی وجہ سے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ انالیا کہتی ہیں کہ ان کے والد نے ان سے پوچھا کہ کیا تم سمجھتی ہو کہ میں کوئی شیطان صفت انسان ہوں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ مجھ سے کیا توقع کر رہے تھے کہ میں کیا کہوں؟ وہ میرے پیارے ابو تھے۔ میں ان کے بہت قریب تھی۔۔۔ میں حواس باختہ ہو گئی۔ پالا کو بھی اپنے والد کے حوالے سے حیرت انگیز انکشافات سننے کو ملے۔ جب وہ 14 برس کی تھیں تو ان کے والد انھیں اور ان کے بھائی کو ایک کیفے لے کر گئے اور انھیں بتایا گیا کہ وہ ایک خفیہ اہلکار رہے ہیں۔ بعد میں پالا کو پتہ چلا کہ ان کے والد ایک جاسوس تھے جو کہ بائیں بازو کے گروہوں میں شامل ہو جاتے تھے اور حکام کو بتاتے تھے کہ کون لوگ ان گروہوں میں ہیں تاکہ انھیں پکڑا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button