انٹرنیشنل

خوراک کی کمی، بھوک، افلاس اور غربت کا شکار ملک بنگلہ دیش خود کفیل کیسے بن گیا؟ حیران کن وجوہات منظر عام پر آنے کے بعد پوری دنیا میں تہلکہ مچ گیا

80 کی دہائی میں میں نے آلو کی کاشت کاری شروع کر دی۔ 'میں نے نئی قسم کے آلو متعارف کروائے اور جدید کھاد کا استعمال کیا

خوراک کی کمی، بھوک، افلاس اور غربت کا شکار ملک بنگلہ دیش خود کفیل کیسے بن گیا؟ حیران کن وجوہات منظر عام پر آنے کے بعد پوری دنیا میں تہلکہ مچ گیا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق جب سنہ 1971 میں بنگلہ دیش وجود میں آیا تو دنیا بھر میں اسے ایک ایسے ملک کے طور پر جانا جاتا تھا جو قدرتی آفات میں گھرا ہوا ہے اور اس کی معیشت انتہائی نازک ہے۔ زیادہ آبادی، کم شرحِ خواندگی، شدید غربت، تھوڑے سے قدرتی وسائل اور نہ ہونے کے برابر صنعتیں ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے ذہن میں سوال یہ تھا کہ کیا بنگلہ دیش ایک آزاد ریاست کے طور پر قائم رہ بھی پائے گا یا نہیں۔

اس وقت امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر کی ایک تنبیہ بہت مشہور ہوئی تھی کہ ایک آزاد بنگلہ دیش ایک باسکٹ کیس (یعنی ایک ایسا ملک جو اپنے مسائل کو خود نہ حل کر سکے گا)بن جائے گا جو کے مکمل طور پر بیرونی امداد پر منحصر ہوگا مگر آج آزادی کے ٹھیک 50 سال بعد اس ملک کو ایک معاشی کامیابی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تو اس سارے میں ایسا کیا بدلا اور یہ تبدیلی کیسے ممکن ہوئی؟ اس ضمن میں بنگلہ دیش کے شہری احسان اللہ کی کہانی سامنے آئی ہے۔ جب بنگلہ دیش آزاد ہوا تو منشیگانج ضلع کے احسان اللہ 16 سال کا تھا۔ اس کے والد وفات پا چکے تھے اور ان کے پاس کوئی زمین تھی نہ پیسے۔ ایک فارم پر مزدور کے طور پر کام کرتے ہوئے وہ صرف اتنا ہی کما لیتے تھے کہ اپنے گھر والوں کی خوراک پوری کر سکیں۔

احسان اللہ دوسروں کے کھیتوں میں کام کر کے اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتے رہا مگر آج وہ اپنے علاقے میں ایک امیر شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آج وہ 18 ایکڑ پر آلو کاشت کرنے کے علاوہ آلو کے بیجوں کا ایک علیحدہ کاروبار بھی کرتے ہیں جس کے ذریعے کئی اضلاع میں یہ سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

احسان اللہ کہتے ہیں کہ میری کہانی تب شروع ہوئی جب میں نے کاشت کاری کے لیے کچھ پلاٹ کرائے پر لیے۔ اس وقت لوگ صرف چاول، سرسوں، اور گندم اگایا کرتے تھے۔ مگر 80 کی دہائی میں میں نے آلو کی کاشت کاری شروع کر دی۔ ‘میں نے نئی قسم کے آلو متعارف کروائے اور جدید کھاد کا استعمال کیا۔ میری پیداوار دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تھی اور منافع بڑھنے لگا تھا۔ میری مالی صورتحال دن بہ دن بہتر ہونے لگی۔’ گذشتہ 50 سالوں میں احسان اللہ نے اپنی مالی صورتحال بدل کر رکھ دی ہے۔ مگر یہ احسان اللہ ہی نہیں پورے ملک کے زرعی شعبے کی کہانی ہے۔ گذشتہ کئی دہائیوں میں بنگلہ دیش کے زرعی سیکٹر میں نئی سے نئی قسم کے بیج متعارف کروائے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button