انٹرنیشنل

ہمیں معلوم ہے کہ آپ نے اپنے کمپیوٹر میں کس کس کی پورن ویڈیوز محفوظ کر رکھی ہیں؟ ہیکرز گروہ نے بڑا دعویٰ کر کے دنیا بھر میں سنسنی پھیلا کر رکھ دی

امریکا میں میں ایک ہیکر گروہ نے ایک کمپنی کے آئی ٹی ڈائریکٹر کے دفتری کمپیوٹر میں موجود پورن مواد کا پتا لگا لیا

ہمیں معلوم ہے کہ آپ نے اپنے کمپیوٹر میں کس کس کی پورن ویڈیوز محفوظ کر رکھی ہیں؟ ہیکرز گروہ نے بڑا دعویٰ کر کے دنیا بھر میں سنسنی پھیلا کر رکھ دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکہ میں ہیکنگ کا اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک ہیکر گروہ نے ایک کمپنی کے آئی ٹی ڈائریکٹر کے دفتری کمپیوٹر میں موجود پورن مواد کا پتا لگا لیا۔ اس کمپنی نے عوامی طور پر یہ بات تسلیم نہیں کی کہ اسے ہیکنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ہیکرز نے ایک آئی ٹی ڈائریکٹر کی خفیہ پورن کلیکشن کھوج نکالنے کے بارے میں فخریہ اعلان کیا۔ ڈارک نیٹ پر گذشتہ ماہ اس ہیکنگ کے بارے میں بلاگ پوسٹ میں سائبر مجرموں کے گروہ نے ان آئی ٹی ڈائریکٹر کا نام لیا جن کے دفتری کمپیوٹر میں مبینہ طور پر یہ پورن مواد موجود تھا۔ ہیکرز نے کمپیوٹر کی فائل لائبریری کا ایک سکرین شاٹ بھی پوسٹ کیا جس میں ایک درجن سے زیادہ فولڈرز کے نام پورن سٹارز اور پورن ویب سائٹس کے نام پر تھے۔

اس بدنامِ زمانہ ہیکر گروپ نے لکھا: (آئی ٹی ڈائریکٹر کا نام)کے لیے شکریہ۔ جس وقت وہ (مشت زنی)کر رہے تھے، اس وقت ہم نے ان کی کمپنی کے گاہکوں کی ذاتی معلومات سے متعلق سینکڑوں جی بی ڈیٹا ڈان لوڈ کر لیا۔ خدا ان کے بالوں بھری ہتھیلیوں پر رحم کرے۔ آمین۔ بعد میں یہ بلاگ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی گئی جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا عام طور پر مطلب یہ ہوتا ہے کہ بھتہ لینے کی کوشش کامیاب ہوئی ہے، ہیکرز کو ڈیٹا واپس کرنے اور کوئی بھی تفصیلات عوام میں نہ لینے کے لیے پیسوں کی ادائیگی کر دی گئی ہے۔ مذکورہ کمپنی نے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

یہی ہیکر گروہ اس وقت امریکہ کی ایک اور یوٹیلیٹی کمپنی پر بھتہ دینے کے لیے دبا ڈال رہا ہے اور اس کے لیے اس نے ایک پورن ویب سائٹ کے لیے اس کمپنی کے ملازم کی آئی ڈی اور پاس ورڈ شائع کر دی ہے۔ سائبر سکیورٹی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایکسٹورشن ویئر یعنی شرمندگی سے بچنے کے لیے بھتے کی ادائیگی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حساس ذاتی معلومات کے بدلے تاوان وصول کرنا نہ صرف کمپنیوں کی کارکردگی بلکہ ان کی ساکھ بھی خراب کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button