انٹرنیشنل

پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات ختم ہونے سے ہمارا کتنا نقصان ہوا؟ ہماری حالت کیا ہو گئی تھی؟ بھارتی کسان پکار اٹھے، مودی سرکار حیران و پریشان

دونوں ممالک کی جانب سے لیے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں مستقبل میں تجارت کی تجدید کی تمام امیدیں ختم ہو کر رہ گئی تھیں

پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات ختم ہونے سے ہمارا کتنا نقصان ہوا؟ ہماری حالت کیا ہو گئی تھی؟ بھارتی کسان پکار اٹھے، مودی سرکار حیران و پریشان ہو گئے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق دھرمیندر سنگھ اور ان کا خاندان عرصہ دراز سے انڈیا اور پاکستان کے مابین ہونے والی تجارت پر انحصار کر رہا تھا مگر 16 فروری 2019 کو پلوامہ میں ہونے والے خود کش حملے نے اس خاندان کے لیے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ اس حملے کے تناظر میں انڈیا نے پاکستان سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 200 فیصد تک کسٹم ڈیوٹی عائد کر دی جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت لگ بھگ رک گئی۔ دھرمیندر کے دادا بھی جوانی میں بطور قلی سرحد پار تجارت سے منسلک تھے۔ اسی طرح ان کے والد نے بھی یہی کام شروع کیا اور دھرمیندر کو دونوں ملکوں کے مابین تجارت کرنے والی ایک کمپنی میں کلرک کی ملازمت دلوا دی۔ جب دھرمیندر کو نوکری مل گئی تو انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو بھی وہیں کام پر لگوا دیا۔ ان کا کنبہ خوشحال تھا اور معاشی بہتری کی جانب گامزن تھا۔ اپنی کمائی سے انھوں نے ایک اچھا مکان بھی تعمیر کر لیا تھا اور اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے بہتر سکولوں میں بھیجنا شروع کر دیا تھا۔

انڈیا کی جانب سے 200 فیصد کی کسٹم ڈیوٹی عائد ہونے کے بعد پاکستان نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت میں کی جانے والی تبدیلی کے جواب میں تجارت پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ دونوں ممالک کی جانب سے لیے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں مستقبل میں تجارت کی تجدید کی تمام امیدیں ختم ہو کر رہ گئی تھیں۔ دھرمیندر نے تجارت دوبارہ شروع ہونے کے لیے چند ماہ انتظار کیا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ آخر کار انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ روزی کمانے کے لیے دوسرے ذرائع کا استعمال کریں گے۔ دھرمیندر سنگھ کہتے ہیں کہ میں گربانی (سکھ مت کی مذہبی کتاب)بطور شوق پڑھتا تھا۔ لیکن پھر مجھے اپنے اس شوق کو پیشے میں تبدیل کرنا پڑا۔ ساتھ ہی ان کے بے روزگار والد نے گھر میں پالے ہوئے مویشیوں کا دودھ فروخت کرنا شروع کر دیا لیکن کورونا وبا نے ان کی زندگی کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ اب انھیں ایک مہینے میں گربانی پڑھنے کے لیے بمشکل پانچ سے چھ دعوت نامے موصول ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button