انٹرنیشنل

بھارت میں کسانوں اور اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، امریکا ان سنگین انسانی جرائم پر خاموش کیوں ہے؟ کانگریس نے سوال اٹھا کر دنیا کو حیران کر کے رکھ دیا

دنیا میں جمہوریت کے ویژن پر ایک آن لائن مباحثے کے دوران یہ بات کہی جس میں امریکا کے سابق سفیر نکولس برن بھی شامل تھے

بھارت میں کسانوں اور اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، امریکا ان سنگین انسانی جرائم پر خاموش کیوں ہے؟ کانگریس نے سوال اٹھا کر دنیا کو حیران کر کے رکھ دیاہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق بھارت میں حزب اختلاف کی کانگریس پارٹی کے سرکردہ رہنماء نے دو اپریل جمعے کے روز کہا کہ بھارت میں اس وقت جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس پر آخر امریکا نے خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے۔

راہول گاندھی نے دنیا میں جمہوریت کے ویژن پر ایک آن لائن مباحثے کے دوران یہ بات کہی جس میں امریکا کے سابق سفیر نکولس برن بھی شامل تھے۔ نکولس برن نے جب روس اور چین کی جانب سے پیش کیے جانے والے سخت نظریات کے مقابلے میں جمہوری اقدار پر بات شروع کی تو راہول گاندھی نے کہا کہ آخر امریکا بھارت کے بارے میں خاموش کیوں ہے؟

ان کا کہنا تھا، بھارت میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے میں اس پر ہمیں امریکی حکومت کی جانب سے کچھ بھی سننے کو نہیں ملتا۔ اگر آپ جمہوریتوں کے درمیان شراکت داری کی بات کہہ رہے ہیں، تو پھر یہاں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ان کا مزید کہنا تھا، میں بنیادی طور پر اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ امریکا ایک عمیق نظریہ ہے، جس طرح سے نظریہ آزادی آپ کے آئین میں شامل ہے۔ لیکن آپ کو اس نظریے کو دفاع کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اور یہی سب سے اہم سوال ہے۔ بات چیت کے دوران راہول گاندھی نے ایک بار پھر یہ بات دہرائی کی کہ حکمراں جماعت نے بھارت کے تقریبا تمام جمہوری اداروں پر قبضہ کر کے اس طرح تبدیل کر دیا ہے کہ 2014 کے بعد سے اپوزیشن کے لیے کام کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن اداروں کا کام منصفانہ سیاسی لڑائی کی حمایت کرنا ہوتا ہے وہ اب ایسا نہیں کرتے ہیں۔

نئی دہلی کے ایک مقام عیدگاہ میں انتظامیہ نے ایک بڑا عارضی کیمپ قائم کر رکھا ہے۔ اِسی کیمپ میں کھلے آسمان تلے ایک مسجد بھی بنائی گئی ہے۔ ایسا اِمکان ہے کہ بے گھر ہونے والے افراد رواں برس عید الفطر کی نماز بھی یہیں ادا کریں گے۔ اِس کیمپ میں قریب ایک ہزار لوگ عارضی پناہ گاہوں میں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا، انتخابات لڑنے کے لیے، مجھے ادارہ جاتی ڈھانچے کی ضرورت ہے، مجھے ایسے عدالتی نظام کی ضرورت ہے جو میری حفاظت کر سکے، مجھے ایسے میڈیا کی ضرورت ہے جو آزاد ہو، مجھے مالی برابری کی ضرورت ہے۔ لیکن ہمارے پاس تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کا جو سلوک ہے اس سے سماج کا ایک بڑا طبقہ بہت مایوس ہے اور ایسے تمام لوگوں کو ایک ساتھ لانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button