انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

جرمنی کی شہری لڑکی نے امریکا کو ہلاک کر رکھ دیا، لڑکی پر کون سے سنگین الزامات لگائے گئے، عالمی افق سے چونکا دینے والی سٹوری منظر عام پر آگئی

اینا سورکن نے خود اپنی ملک بدری کے خلاف اپیل کی ہے یا حکام نے انھیں کسی اور مقصد کے لیے حراست میں رکھا ہوا ہے

جرمنی کی شہری لڑکی نے امریکا کو ہلاک کر رکھ دیا، لڑکی پر کون سے سنگین الزامات لگائے گئے، عالمی افق سے چونکا دینے والی سٹوری منظر عام پر آگئی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق نیو یارک میں اپنے آپ کو ایک ارب پتی خاندان کی وارث کے طور پر پیش کر کے فراڈ کرنے والی خاتون اینا سورکن کو امریکی امیگریشن حکام نے حراست میں رکھا ہوا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ اینا سورکن کو ریاست نیو جرسی کی ایک جیل میں رکھا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اینا سورکن نے خود کو 25 مارچ کو امیگریشن حکام کے حوالے کیا تھا اور انھیں اگلے روز ملک بدر کیا جانا تھا۔ اب تک یہ واضح نہیں کہ کیا اینا سورکن نے خود اپنی ملک بدری کے خلاف اپیل کی ہے یا حکام نے انھیں کسی اور مقصد کے لیے حراست میں رکھا ہوا ہے۔ جرمن شہری اینا سوروکن نے اپنے آپ کو دنیا کے سامنے جرمنی کے ایک ایسے دولت مند خاندان کی واحد وارث اینا ڈیلوی کے طور پر پیش کیا تھا جسے وراثت میں 600 کروڑ ڈالر ملے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے نیویارک میں مختلف بینکوں اور ہوٹلوں سے تقریبا دو لاکھ ڈالر سے زیادہ کا فراڈ کیا۔

اینا سوروکن نے کہا کہ ایک طرح سے ہوا ہے۔ سوروکن نے ٹی وی کے لیے ڈرامے اور فلمیں بنانے والی بین الاقوامی کمپنی نیٹ فلکس کو اپنی کہانی بیچ کر تین لاکھ بیس ہزار ڈالر کمائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں دیگر پیشکشیں بھی ہوئی ہیں۔ سوروکن کو بینکوں، ہوٹل مالکان اور دوستوں سے فراڈ کر کے لاکھوں ڈالر کمانے کے جرم میں جیل بھگتنا پڑی۔ اینا ڈیلوی کا بھیس اپنا کر انھوں نے جو جعل سازیاں کیں اس کی کہانی جب سنہ 2018 میں نیویارک میگزین میں شائع ہونے پر وائرل ہوئی تو اس میں فلم سازوں اور ٹی وی پروڈیسروں نے بھی دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔ نیٹ فلکس سے ڈیل پر ان کا کہنا ہے کہ میں نے نیٹ فلکس سے نہیں کہا تھا کہ وہ میری کہانی خریدیں۔ یہ بس ہو گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اور باقی جو کچھ ہوا وہ خود بخود ہوا اور اس میں ان کی کوئی منصوبہ بندی شامل نہیں تھی۔ سوروکن تین سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے کاٹنے کے بعد اس سال فروری میں ہی ضمانت پر رہا ہوئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button