انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

سوئز نہر کی گزرگار بند کرنے کا الزام، مصر کی بحری خاتون پر کیوں لگایا گیا؟ دنیا بھر میں سنسنی مچا دینے والی نئی بحث چھڑنے کے بعد پوری دنیا میں جنگ کا ماحول بن گیا

نہر سوئز کی بندش کے وقت مروہ الیگزینڈرا میں مصر کے تربیتی بحری جہاز ایڈا فور پر بطور سکینڈ ان کمانڈ افسر خدمات انجام دے رہی تھی

سوئز نہر کی گزرگار بند کرنے کا الزام، مصر کی بحری خاتون پر کیوں لگایا گیا؟ دنیا بھر میں سنسنی مچا دینے والی نئی بحث چھڑنے کے بعد پوری دنیا میں جنگ کا ماحول بن گیا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق گذشتہ ماہ مروہ السلحدار نے ایک عجیب بات محسوس کی۔ نہر سوئز میں ایور گیوین نامی ایک بڑے مال بردار بحری جہاز کے پھنسنے کی خبر آ چکی تھی اور اس سے دنیا کی سب سے مصروف آبی گزرگاہ میں رکاوٹ کے باعث عالمی برادری کو تجارتی مال کی ترسیل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن جیسے ہی مروہ نے اپنا فون چیک کیا تو انٹرنیٹ پر پھیلنے والی افواہوں میں اس بندش کا الزام ان پر عائد کیا جا رہا تھا۔ مصر کی پہلی بحری کپتان مروہ کا کہنا ہے میں یہ دیکھ کر چونک گئی۔

نہر سوئز کی بندش کے وقت مروہ السلحدار ہزاروں میل دور الیگزینڈرا میں مصر کے تربیتی بحری جہاز ایڈا فور پر بطور سکینڈ ان کمانڈ افسر خدمات انجام دے رہی تھی۔ یہ مصر کا ایک تربیتی بحری جہاز ہے، جو ملک کی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی کی ملکیت ہے اور بحیرہ احمر میں سپلائی مشن چلا رہا ہے۔ اس کا استعمال عرب لیگ کے زیر انتظام عرب اکیڈمی برائے سائنس، ٹیکنالوجی اور میری ٹائم ٹرانسپورٹ کے کیڈٹس کو تربیت دینے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ نہر سوئز میں ایور گیون نامی مال برادر جہاز کے پھنسنے میں مروہ السلحدار کے کردار سے متعلق افواہیں ایک جھوٹی خبر کی شہ سرخی کے سکرین شاٹس کے باعث پھیلی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ اس واقعہ میں وہ ملوث ہیں۔

اس جھوٹی خبر کے سکرین شاٹس عرب نیوز کی ایک اصلی خبر، جو 22 مارچ کو شائع کی گئی تھی اور جس میں مروہ کی بطور پہلی مصری خاتون بحری جہاز کی کپتان کی کامیابی کے متعلق بتایا گیا تھا، سے بنائے گئے تھے۔ ان کی تصویر کو درجنوں بار ٹوئٹر اور فیس بک پر شیئر کیا گیا۔ مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کے نام سے بنائے گئے متعدد اکانٹس سے بھی اس جھوٹے دعوے کو پھیلایا گیا کہ وہ اس واقعہ میں ملوث تھیں۔ 29 برس کی مروہ السلحدار نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں کچھ نہیں پتا کہ سب سے پہلے یہ غلط خبر کس نے پھیلائی اور اس نے ایسا کیوں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے لگا کہ شاید مجھے اس لیے ہدف بنایا گیا ہے کیونکہ میں اس شعبے میں ایک کامیاب خاتون ہوں یا میں ایک مصری ہوں مگر مجھے نہیں پتہ۔ مگر یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ انھیں مردوں کی اکثریت والے شعبے میں پہلی بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ بین الاقوامی میری ٹائم ادارے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں صرف دو فیصد خواتین بحری صنعت سے منسلک ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.