انٹرنیشنل

خواتین سراپا احتجاج ہیں اور وہ سوال پوچھ رہی ہے کہ مرد ریپ کیوں کرتے ہیں؟ انٹرویوز کرنے والی لڑکی دماغی مریضہ کیسے بن گئی؟ اصل کہانی سامنے آگئی

ریپسٹوں (ریپ کرنے والوں)کے ساتھ انٹرویو پر مبنی اپنی تحقیق کا آغاز سنہ 2017 سے کیا، ڈپریشن یا ذہنی دباؤ اور افسردگی کا شکار ہو گئیں

خواتین سراپا احتجاج ہیں اور وہ سوال پوچھ رہی ہے کہ مرد ریپ کیوں کرتے ہیں؟ انٹرویوز کرنے والی لڑکی دماغی مریضہ کیسے بن گئی؟ اصل کہانی سامنے آگئی ہے۔

تارا کوشل نے اپنی تحقیق کے سلسلے میں متعدد ریپ کرنے والوں کا انٹرویو کیا اور اس کا خود تارا پر شدید اثر پڑا ہے۔ انھوں نے ریپسٹوں (ریپ کرنے والوں)کے ساتھ انٹرویو پر مبنی اپنی تحقیق کا آغاز سنہ 2017 سے کیا۔ اس کے بعد وہ ڈپریشن یا ذہنی دباؤ اور افسردگی کا شکار ہو گئیں۔ ان کے ذہن نے کام کرنا چھوڑ دیا اور وہ بہت دن تک بس روتی رہیں۔ ایک دن انھوں نے دہلی سے ملحق نوئیڈا کے اپنے فلیٹ کے بیڈ روم میں خود کو بند کر لیا۔ تارا نے اس شام کو یاد کرتے ہوئے کہا: ‘میرے پارٹنر ساحل دروازے پر کھڑے تھے۔ وہ بار بار پوچھ رہے تھے کہ کیا تم ٹھیک تو ہو، لیکن میں اندر مسلسل رو رہی تھی۔ اس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ مجھے تھیراپی (نفسیاتی علاج)کی ضرورت ہے۔’ ویسے بھی تحقیق شروع کرنے سے پہلے تارا جنسی تشدد کے زخم کو برداشت کر رہی تھیں۔ وہ 16 سال کی عمر سے ہی اس مسئلے پر بات کر رہی ہیں۔ انھوں نے اپنے والدین کو بتایا: ‘جب میں چار سال کی تھی تو مالی نے میرا ریپ کیا تھا۔’

یہ سن کر تارا کے والدین صدمے میں چلے گئے۔ لیکن تارا کے لیے یہ ان کے اندر کے طوفان کو باہر نکالنے کے مترادف تھا۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل اپنے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے بارے میں بات کرتی رہی ہیں۔ عوامی مباحثوں میں حصہ لے رہی ہیں، دوستوں کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں اور اب ایک کتاب بھی لکھ رہی ہیں۔ تارا نے بتایا: ‘اس واقعے کی کچھ کچھ یادیں باقی ہیں۔ میں اس کا نام جانتی ہوں۔ وہ کیسا تھا یہ جانتی ہوں۔ مجھے اس کے گھنگریالے بال اور میرے نیلے رنگ کے لباس پر خون لگنا یاد ہے۔’ جب تارا بڑی ہونے لگیں تو انھوں نے روزانہ ہونے والی دیگر جنسی ہراسانیوں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ وہ جاننا چاہتی تھیں کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ انھوں نے بتایا: ‘میری کتاب ‘وائی مین ریپ’ (مرد ریپ کیوں کرتے ہیں؟)میرے ذاتی اور پیشہ ورانہ سفر کا نتیجہ ہے۔ اس دوران مجھے ذہنی صدمے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔’

متعلقہ خبریں

Back to top button