انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

خواتین کے ختنے کہاں کروائے جاتے ہیں، تہلکہ مچا دینے والی رپورٹ سامنے آگئی، تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون نے تمام پول کھول کر پوری دنیا میں کھلبلی مچا دی

مصر کی قدامت پسند مسلمان برادریوں خاص طور پر دیہی علاقوں میں بسنے والی خواتین کو نسوانی ختنے نہ ہونے تک ناپاک تصور کیا جاتا ہے

خواتین کے ختنے کہاں کروائے جاتے ہیں، تہلکہ مچا دینے والی رپورٹ سامنے آگئی، تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون نے تمام پول کھول کر پوری دنیا میں کھلبلی مچا دی ہے۔

انٹرنیشنل رپورٹ میں شامل بعض تفصیلات چند قارئین کی طبیعت پر گراں گزر سکتی ہیں۔انھوں نے مجھے پکڑ کر لٹایا اور میرے جسم کا ایک حصہ کاٹ دیا۔ مجھے کچھ معلوم نہیں ہے کہ کیوں۔ یہ میری زندگی کا پہلا صدمہ تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں نے اپنے گھر والوں کے ساتھ کیا غلط کیا تھا کہ یہ میرے اوپر حاوی ہو کر مجھے تکلیف دینے کے لیے میری ٹانگیں کھول رہے تھے۔ یہ نفسیاتی طور پر میرے لیے ایک نروس بریک ڈاؤن کی طرح تھا۔ لیلی (فرضی نام)صرف 11 یا 12 سال کی تھیں جب انھیں نسوانی ختنے (فیمیل جینیٹل میوٹیلیئیشن یا ایف جی ایم)کے عمل سے گزرنا پڑا۔

مصر کی قدامت پسند مسلمان برادریوں خاص طور پر دیہی علاقوں میں بسنے والی خواتین کو نسوانی ختنے نہ ہونے تک ناپاک تصور کیا جاتا ہے اور شادی کے لیے تیار نہیں سمجھا جاتا۔ مصر میں خواتین کے ختنے کرنے کا عمل سنہ 2008 میں غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور اگر خلاف قانون کوئی ڈاکٹر یہ کام کرتا ہے تو اسے سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ایسا کوئی بھی شخص جو کسی خاتون کے ختنے کرنے کی درخواست کرے اسے بھی تین سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔ قانون ہونے کے باوجود مصر میں خواتین کے ختنہ کی بلند ترین شرح والے ممالک میں شامل ہے۔ انسانی حقوق کے وکیل رضا الدنبوقی خواتین کے لیے مفت مقدمات لڑنے والے ایک مرکز کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خواتین کے ختنے اکثر پلاسٹک سرجری کی آڑ میں کیے جاتے ہیں۔

قاہرہ میں قائم ویمنز سینٹر فار گائیڈنس اینڈ لیگل اویئرنیس (ڈبلیو سی جی ایل اے)نے اب تک خواتین کی طرف سے تین ہزار مقدمات دائر کیے ہیں اور ان میں سے 1800 کے قریب مقدمات جیتے ہیں۔ ان میں سے کم از کم چھ مقدمات خواتین کے ختنوں کے متعلق تھے۔ ہو سکتا ہے کہ قانون ان کی طرف ہو، مگر انصاف لینا ایک بالکل مختلف کہانی ہے۔ رضا بتاتے ہیں کہ اگر لوگ پکڑے بھی جائیں تو بھی پولیس اور عدالتیں ان سے کافی نرمی برتتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کیسے ان کا سینٹر اس عمل کے خلاف مہم چلا رہا ہے۔ انھوں نے ہمیں ان تین خواتین سے ملوایا جنھوں نے ہمیں اپنے ذاتی تجربے کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ کیوں اگلی نسل کو اس سے محفوظ رکھنا چاہتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.