انٹرنیشنل

کورونا وباء کے دوران میاں بیوی کے تعلقات میں کیا تبدیلی آ چکی ہے؟ سنسنی خیز حقائق سے پردہ اٹھا دیا گیا، شہریوں کے لئے حیران کن و دلچسپ خبر سامنے آگئی

گھر تک محدود رہ جانے کی وجہ سے جوڑوں کو ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کو وقت ملا اور ابتدا میں ان کے جنسی تعلقات بہتر ہوئے

کورونا وباء کے دوران میاں بیوی کے تعلقات میں کیا تبدیلی آ چکی ہے؟ سنسنی خیز حقائق سے پردہ اٹھا دیا گیا، شہریوں کے لئے حیران کن و دلچسپ خبر سامنے آگئی ہے۔

ہیوسٹن ٹیکساس میں مقیم ایک سیکس تھیراپسٹ (جنسی تعلقات کی ماہر)ایما جیمی کہتی ہیں کہ عالمی وبا سے قبل جوڑے کچھ اس طرح اپنی زندگیاں بسر کر رہے تھے جیسے رات کے اوقات میں دو بحری جہاز ایک دوسرے کے قریب سے گزرتے ہیں۔ پہلے ان کی زندگیوں میں کام اور دیگر مصروفیات زیادہ اور ایک دوسرے کے لیے وقت کم ہوتا تھا۔ ایسے میں لاک ڈاؤن اور عالمی وبا کی پابندیوں کے دوران ان جوڑوں کو فرصت کے لمحات میسر آئے۔ گھر تک محدود رہ جانے کی وجہ سے جوڑوں کو ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کو وقت ملا اور ابتدا میں ان کے جنسی تعلقات بہتر ہوئے۔

جیمی کی رائے ہے کہ کئی جوڑوں نے عالمی وبا اور لاک ڈان کی ابتدا میں اپنی سیکس لائف میں بہتری کا لطف اٹھایا۔ امریکہ کی ٹیکساس سٹیٹ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور سوشل سائیکالوجسٹ رونڈا بلزرینی کہتی ہیں کہ لاک ڈان کا آغاز ہنی مون کے مرحلے جیسا تھا۔ اس دوران جنسی تعلق کی خواہش میں اضافہ ہوا اور یہ اکثر تب دیکھا جاتا ہے کہ جب لوگ کسی مشکل گھڑی میں تعمیری یا مثبت ردعمل دیتے ہیں۔ اس مرحلے میں لوگ ساتھ کام کرتے ہیں۔ شاید یہ ایسا ہے کہ آپ اپنے ہمسائے کے گھر انھیں ٹوائلٹ پیپر دینے جائیں جب انھیں ضرورت ہو۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ لیکن وقت کے ساتھ جیسے جیسے اشیا کی قلت پیدا ہوتی ہے تو لوگوں میں اضطراب بڑھ جاتا ہے۔ اس دوران ذہنوں میں پریشانی اور خوف بڑھ جاتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے کہ جب جوڑوں کے بیچ معاملات خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

دی کنزی انسٹیٹیوٹ نامی ادارے میں محقق اور سوشل سائیکالوجسٹ جسٹن لیملر کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ لوگ بہت زیادہ تھک چکے ہیں۔ انھوں نے امریکہ میں اس حوالے سے ایک تحقیق بھی کی ہے۔ اکثر لوگوں کے لیے لاک ڈاؤن نے غیر یقینی اور خوف کا ماحول بنایا۔ ان میں سے کئی لوگوں کو پہلی مرتبہ صحت سے متعلق پریشانی، مالی مشکلات اور زندگی میں دیگر تبدیلیاں دیکھنا پڑیں۔ ان عوامل کی وجہ سے پریشانی کا سامنا ہوا۔ لوگوں کو ضرورت سے زیادہ وقت ایک دوسرے کے ساتھ ایک ہی جگہ گزارنا پڑا جس سے جوڑوں کو سیکس لائف پر گہرا اثر پڑا۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کووڈ 19 نے جنسی تعلقات میں بگاڑ پیدا کیا۔ مگر اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی وبا کے بعد اس میں بہتری آ سکتی ہے اور آیا طویل مدتی اثرات سے سیکس لائف کی بحالی ناممکن ہے؟

جیمی کے مطابق شروع میں عالمی وبا نے لوگوں کو موقع دیا کہ وہ ایسا وقت گزار سکیں جو شاید وہ پہلے صرف چھٹی پر ساتھ گزار پاتے تھے۔ لیکن عالمی وبا کے طویل ہونے کے باعث اب یہ معاملات ایسے نہیں رہے۔ وہ کہتی ہیں کہ وبا کی طوالت کے باعث جنسی تعلقات بری طرح متاثر ہوئے۔ ان حالات میں اکثر جوڑوں کے لیے جنسی خواہشات زوال کا شکار ہوئیں۔ دنیا بھر سے مختلف تحقیقات میں بھی یہی دیکھنے کو ملا ہے۔ ترکی، اٹلی، انڈیا اور امریکہ میں سنہ 2020 کے دوران کی گئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کی جانب سے سیکس اور انفرادی عمل میں کمی آئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.