انٹرنیشنل

بھارتی شہریوں کی سانسیں اکھڑنے لگیں لیکن حکومت ان کے لئے کیا کر رہی ہے؟ مودی سرکار کے پول کھول دینے والے انکشافات نے بھارتی حکومت کے سر شرم سے جھکا دیئے

شدید متاثرہ علاقوں میں آکسیجن کی فراہمی کے لیے ٹرینوں اور فضائیہ کی مدد لے رہی ہے‘ اس چیز کی تباہ کن یاددہانی ہیں کہ کووڈ کیا تباہی لا سکتا ہے

بھارتی شہریوں کی سانسیں اکھڑنے لگیں لیکن حکومت ان کے لئے کیا کر رہی ہے؟ مودی سرکار کے پول کھول دینے والے انکشافات نے بھارتی حکومت کے سر شرم سے جھکا دیئے ہیں۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق جمعے کی صبح انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں 25 خاندانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ ان کے پیارے شہر کے سر گنگا رام ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے فوت ہو گئے ہیں تو جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب دہلی کے ہی جے پور گولڈن ہسپتال میں داخل کورونا کے مزید 20 مریضوں کے لواحقین کو بھی یہی خبر سننے کو ملی۔ آکسیجن کی کمی کا معاملہ صرف ان دو ہسپتالوں تک محدود نہیں بلکہ دہلی اور دیگر بڑے شہروں کے متعدد بڑے ہسپتالوں میں بار بار آکسیجن ختم ہو رہی ہے جو وائرس کے شکار مریضوں کو سانس لینے میں مدد کے لیے ضروری ہے۔ جہاں ایک طرف ہسپتالوں میں داخل مریض آکیسجن کی عدم دستیابی کی وجہ سے جان کی بازی ہار رہے ہیں وہیں انڈیا میں روز بروز نئے متاثرین کی تعداد کا نیا عالمی ریکارڈ قائم ہوتا جا رہا ہے۔

انڈین دارالحکومت نئی دہلی کے ہسپتالوں کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ حالات قابو سے باہر ہونے کی نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ ہولی فیملی ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے تمام یونٹ بھر چکے ہیں اور مزید کسی مریض کی گنجائش نہیں۔ ڈاکٹر سمت رائے نے کہا کہ یہ صرف ہولی فیملی ہسپتال کی بات نہیں بلکہ ہر ہسپتال میں صورتحال نازک ہے۔ اگر آکسیجن ختم ہو گئی تو کئی مریضوں کے زندہ رہنے کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔ وہ مر جائیں گے۔ چند منٹ میں وہ مر جائیں گے۔ مریض وینٹیلیٹرز پر ہیں۔ انھیں مسلسل اور زیادہ آکسیجن درکار ہے۔ آکسیجن رکی تو ان میں سے زیادہ تر مر جائیں گے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی کے علاوہ مغرب میں مہاراشٹر اور گجرات، شمال میں ہریانہ، اور وسطی ہندوستان میں مدھیہ پردیش سب کو آکسیجن کی قلت کا سامنا ہے۔ شمالی ریاست اتر پردیش میں، کچھ ہسپتالوں نے باہر آکسیجن سٹاک ختم کے بورڈ لگائے ہیں اور ریاست کے دارالحکومت لکھن میں ہسپتالوں نے مریضوں کو کہیں اور منتقل ہونے کو کہا ہے۔ دہلی میں چھوٹے چھوٹے ہسپتال اور نرسنگ ہوم بھی یہی کام کر رہے ہیں۔ متعدد شہروں میں مایوس رشتے دار آکسیجن ریفلنگ مراکز کے باہر کھڑے ہیں۔ جنوبی شہر حیدرآباد میں ایک پلانٹ نے بھیڑ کو سنبھالنے کے لیے سکیورٹی گارڈز اور بانسرز کی خدمات حاصل کیں۔

سوشل میڈیا فیڈز اور واٹس ایپ گروپس آکسیجن سلنڈروں کے لیے مدد مانگتی درخواستوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ایک ہفتے سے، انڈیا اس خوفناک خواب کو دہرا رہا ہے، خوفناک لمحے کا انتظار کر رہا ہے جب آکسیجن نہیں بچے گی۔ ڈاکٹروں سے لے کر حکام اور صحافیوں تک جس نے بھی وبائی صورتحال کو بدلتے دیکھا ہے انھیں ایسا لگ رہا ہے کہ یہ سب پہلے بھی ہوا ہے۔ سات ماہ قبل، ملک میں آکسیجن کی اسی طرح کی قلت کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ کووڈ کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ لیکن اس بار، یہ صورتحال بد ترین ہے۔ صحت کے ایک اعلی حکام راجیش بھوشن نے بتایا کہ عام طور پر، صحت کے مراکز آکسیجن سپلائی کا تقریبا 15 فیصد استعمال کرتے ہیں، بقیہ صنعتی استعمال کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن انڈیا میں کووڈ 19 کی دوسری لہر کے دوران، ملک میں آکسیجن سپلائی کا تقریبا 90 فیصد روزانہ 7،500 میٹرک ٹن، طبی استعمال میں لایا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.