انٹرنیشنل

مودی تو ہندوؤں کے دیوتا ہیں پھر اسے کس طرح شکست دی جا سکتی ہے؟ بھارتی حکومت کے خلاف خاتون سیاستدان سامنے آگئی، ملک بھر میں کہرام برپا ہوگیا

مغربی بنگال کے انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ ملک کی مستقبل کی جمہوریت کا رخ طے کرنے والے ہیں

مودی تو ہندوؤں کے دیوتا ہیں پھر اسے کس طرح شکست دی جا سکتی ہے؟ بھارتی حکومت کے خلاف خاتون سیاستدان سامنے آگئی، ملک بھر میں کہرام برپا ہوگیا۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں ریاستی انتخابات اب آخری مراحل میں ہیں اور آٹھویں مرحلے میں 35 سیٹوں پر آج (29 اپریل)پولنگ ہو رہی ہے۔ انڈیا کی انتخابی تاریخ میں غالبا یہ واحد ایسا ریاستی انتخاب ہے جس میں ایک علاقائی پارٹی کو شکست دینے کے لیے ملک کے وزیر اعظم نے غیر معمولی انتخابی مہم چلائی ہو۔

سیاسی ماہرین کے مطابق مغربی بنگال کے انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ ملک کی مستقبل کی جمہوریت کا رخ طے کرنے والے ہیں۔ بنگال اسمبلی کے یہ انتخابات انتہائی تلخ ماحول میں لڑے جا رہے ہیں۔ انتخاب میں ایک طرف ترنمول کانگریس کی رہنما ممتا بینرجی ہیں جو تیسری بار اقتدار میں آنے کے لیے کوشاں ہیں، دوسری جانب کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں اتحاد بنا کر انتخاب لڑ رہی ہیں جبکہ تیسری جانب حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)ہے۔ مغربی بنگال میں اصل مقابلہ ممتا بینرجی کی ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ 294 رکنی مغربی بنگال اسمبلی میں ممتا بینرجی گذشتہ انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔ بی جے پی کو سنہ 2016 کے اسمبلی انتخابات میں محض دس فیصد ووٹ ملے تھے لیکن 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں اس کا ووٹ بینک بڑھ کر 40 فیصد پر پہنچ گیا تھا۔

بی جے پی مغربی بنگال کی دوسری بڑی پارٹی بن چکی ہے اور اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی عوام میں ذاتی مقبولیت سے منسوب کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب ممتا بینرجی بھی ریاست کی ایک مقبول رہنما ہیں جنھیں خواتین ووٹرز کے علاوہ ریاست میں بسنے والے 27 فیصد مسلمانوں میں خاصی مقبولیت حاصل ہے۔ یہاں انتخاب جیتنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی پوری طاقت اور وسائل لگا رکھے ہیں۔ بی جے پی نے مغربی بنگال میں انتخاب شروع ہونے سے ایک برس قبل ہی اپنی انتخابی مہم چلانا شروع کر دی تھی۔ وزیر اعظم مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور پارٹی کے صدر جے پی نڈا کے علاوہ درجنوں مرکزی وزرا اور بی جے پی کے رہنما انتخابی ریلیوں میں گذشتہ ایک سال کے دوران شریک ہوتے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.