انٹرنیشنل

چائلڈ پورنو گرافی کا بہت بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا، شرمناک وارداتیں ڈالنے والے پکڑے گئے یا نہیں؟ نیٹ ورک سے متعلق سنسنی خیز انکشافات سامنے آنے کے بعد سب دنگ رہ گئے

جرمن پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ایک طویل تفتیشی عمل کے بعد گزشتہ ماہ اپریل کے وسط میں بچوں کی فحش فلموں کے اس نیٹ ورک کو بند کر دیا گیا

چائلڈ پورنو گرافی کا بہت بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا، شرمناک وارداتیں ڈالنے والے پکڑے گئے یا نہیں؟ نیٹ ورک سے متعلق سنسنی خیز انکشافات سامنے آنے کے بعد سب دنگ رہ گئے

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق جرمن پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ایک طویل تفتیشی عمل کے بعد گزشتہ ماہ اپریل کے وسط میں بچوں کی فحش فلموں کے اس نیٹ ورک کو بند کر دیا گیا، جو دنیا بھر میں اس غیر قانونی کاروبار کا سب سے بڑا پلیٹ فارم تھا۔ ڈارک نیٹ کے اس پلیٹ فارم کا نام ‘بوائز ٹان تھا۔ اس کارروائی کے دوران چند مشتبہ ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔ بچوں کی فحش فلموں کا گھنانا کاروبار کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا پلٹ فارم ‘بوائز ٹانسن 2019 سے فعال تھا۔ اس کو استعمال کرنے والوں کی تعداد چار لاکھ سے زائد تھی۔ اس آن لائن پلیٹ فارم تک رسائی کا واحد ذریعہ ڈارک نیٹ تھا۔ پولیس کی تفتیش کا دائرہ جرمنی سے باہر تک پھیلا ہوا تھا۔

اس پولیس کارروائی کے نتیجے میں جن چار جرمن شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے، ان کی عمریں چالیس سے چونسٹھ برس کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک کو لاطینی امریکی ملک پیراگوئے میں گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونے والا ایک شخص اس پلیٹ فارم کا خاصا سرگرم رکن تھا۔ اس نے ساڑھے تین ہزار سے زائد پوسٹس شیئر کی تھیں۔

اس پورنو پلیٹ فارم کی تلاش ایک جرمن ٹاسک فورس کی طرف سے کئی مہینوں کی تفتیش کا نتیجہ تھی۔ ٹاسک فورس کے ساتھ یورپی پولیس ادارے یوروپول نے بھی تعاون کیا۔ تفتیشی عمل میں دیگر ممالک مثلا ہالینڈ، آسٹریلیا، امریکا اور کینیڈا شامل تھے۔ اس پلیٹ فارم کی دریافت اور چار افراد کی گرفتاری کا بیان وفاقی جرمنی کی تفتیشی پولیس فورس (بی کے اے)کی جانب سے جاری کیا گیا۔ اس بیان میں بتایا گیا کہ ‘بوائز ٹان چائلڈ پورنو گرافی کے کاروبار میں ملوث افراد کو کم سن بچوں کے ساتھ کی جانے والی جنسی زیادتیوں کی ریکارڈنگ دوسرے ممبران کے ساتھ شیئر کرنے کی سہولت فراہم کرتا تھا۔ اس پلیٹ فارم کے رجسٹرڈ یوزر کو ‘بوائز ٹان کے ایڈمنسٹریٹرز استعمال کرنے کے نہایت محفوظ طریقوں سے بھی مطلع کرتے تھے تا کہ وہ فوجداری الزامات سے بچ سکیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.