انٹرنیشنل

نحوست زدہ قرار دے کر یتیم خانے کو بھیجی جانے والی لڑکی کا تعلق کس ملک سے ہے اور عالمی سطح پر اسے کون سا عہدہ مل گیا؟ ہوشر باء رپورٹ نے سب کو چونکا کررکھ دیا

ژلی کو برصیت کا مرض تھا، جس میں بال سفید اور جِلد نہ صرف بے حد حساس بلکہ دودھ کی طرح سفید ہو جاتی ہے

نحوست زدہ قرار دے کر یتیم خانے کو بھیجی جانے والی لڑکی کا تعلق کس ملک سے ہے اور عالمی سطح پر اسے کون سا عہدہ مل گیا؟ ہوشر باء رپورٹ نے سب کو چونکا کررکھ دیا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق ژلی ایبنگ جب چھوٹی تھیں تو ان کے والدین نے ان کو یتیم خانے کے بار چھوڑ دیا تھا۔ اس کی وجہ تھی کی ژلی کو برصیت کا مرض تھا، جس میں بال سفید اور جِلد نہ صرف بے حد حساس بلکہ دودھ کی طرح سفید ہو جاتی ہے۔ چین میں، جہاں ژلی کی پیدائش ہوئی تھی، وہاں اس مرض کو بدشگونی کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن اس مرض کے باعث مختلف لگنا ژلی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا اور اب 16 برس کی ژلی فیشن کے مختلف جریدوں جیسے ‘ووگ’ کے صفحات کی زینت بن چکی ہیں اور کئی معروف فیشن ڈیزائنرز کے کپڑوں کی نمائش کر چکی ہیں۔ یہ ہے ان کی کہانی جو انھوں نے جینیر میئیرہانس کو بیان کی ہے۔ یتیم خانے کے عملے نے میرا نام ژیو لی رکھا۔ ژیو کے معنی ہوتے ہیں برف اور لی کا مطلب ہے خوبصورت۔ جب میں تین برس کی تھی تو مجھے نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان نے گود لے لیا اور میں اپنی ماں اور بہن کے ساتھ وہاں رہنے لگی۔

میری ماہ نے کہا کہ وہ میرے لیے اس سے زیادہ خوبصورت نام نہیں سوچ سکتیں، اور یہ ضروری ہے کہ میں یہ نام رکھوں تاکہ اپنی چینی تعلق کو برقرار رکھوں۔ جس وقت میں پیدا ہوئی تھی، اس وقت چینی حکومت کی پالیسی کے مطابق والدین کو صرف ایک بچہ پیدا کرنے کی اجازت تھی۔ اور اگر آپ کی پیدا ہونے والی اولاد میں برصیت کا مرض تشخیص ہوتا تو اپ انتہائی بدقسمت سمجھے جاتے۔ اس مرض سے متاثر میری طرح کے کئی بچوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا اور جن کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا، ان کے والدین ان کے بالوں کو کالے رنگ سے رنگ دیتے تھے لیکن افریقہ میں کچھ ممالک میں تو برصیت سے متاثرہ افراد کا شکار کیا جاتا ہے اور ان کے بازو کاٹ دیے جاتے ہیں یا انھیں ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ وہاں جادو ٹونے کرنے والے ان کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی ہڈیوں کو استعمال کر کے ادویات تیار کرتے ہیں جن کے بارے میں یہ یقین رکھا جاتا ہے کہ یہ دوائیں لوگوں کی بیماریاں ختم کریں گی۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوتا اور یہ سب صرف افسانوں باتیں ہیں۔ میں شکر ادا کرتی ہوں کہ میں خوش قسمت تھی کہ مجھے صرف لاوارث چھوڑ دیا گیا۔

میرے اصل والدین نے مجھے یتیم خانے چھوڑتے ہوئے انھیں میرے بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں اس لیے مجھے نہیں علم کہ میری تاریخ پیدائش کیا ہے۔ ایک سال قبل میں نے اپنے ہاتھ کا ایکسرے کروایا تھا۔ ڈاکٹروں کا اندازہ درست تھا کہ میں تقریبا پندرہ برس کی ہوں۔ ماڈلنگ کے شعبے میں آنا محض اتفاق تھا۔ میری والدہ ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی ایک ڈیزائنر سے رابطے میں تھیں۔ ان کا ایک بیٹا تھا جس کے ہونٹوں کے درمیان شگاف تھا۔ اس نے سوچا کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے ایسے زبردست اور عالیشان کپڑے تیار کریں کہ لوگ صرف ان پر توجہ دیں، نہ کہ اس کے منھ پر۔ اس حوالے سے انھوں نے اپنی کپڑوں کی نمائش کے حوالے سے ہونے والے فیشن شو میں مجھے بھی شرکت کرنے کی دعوت دی اور یہ میرے لیے بہت ہی شاندار تجربہ تھا۔ اس کے بعد مجھے کچھ اور فوٹو شوٹس میں مدعو کیا گیا اور ان میں سے ایک لندن میں فیشن ڈیزائنر بروک ایلبینک کے سٹوڈیو میں تھا۔ انھوں نے انسٹاگرام پر میری تصویر شائع کی۔ اس کے بعد ڈیب ڈی ٹیلنٹ ماڈلنگ ایجنسی نے مجھ سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا میں ان کے اس مشن میں حصہ لینا چاہوں گی جس میں ان افراد کو فیشن انڈسٹری میں جگہ دیتے ہیں جو کسی بھی طرح کی معذوری یا مرض میں مبتلا ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.