انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

فرانس کو جیت سے ہمکنار کروانے والی 17 سالہ لڑکی کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ہوشرباء حقائق سامنے آگئے

غیبی آوازوں کے کہنے پر لڑکی نے تلوار اٹھائی اور اپنی جرات اور بہادری سے فرانس کو انگریزوں کے قبضے میں جانے سے بچا لیا

فرانس کو جیت سے ہمکنار کروانے والی 17 سالہ لڑکی کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ہوشرباء حقائق سامنے آگئے ہیں۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق فرانسیسی لڑکی کا کہنا تھا کہ جب میں تیرہ برس کی تھی تو مجھے غیب سے آواز آئی کہ مجھے اپنی زندگی بدلنی ہو گی۔ میں نے اس دن روزہ نہیں رکھا تھا۔ مجھے یہ آواز چرچ کی دائیں طرف سے آئی۔ مجھے ان آوازوں کے ساتھ ہمیشہ چرچ کے دائیں طرف تیز روشنی بھی دکھائی دیتی ہے۔ تین مرتبہ یہ آواز سننے کے بعد مجھے یقین آ گیا کہ یہ آواز کسی فرشتے کی ہے۔ جون آف آرک ایک غریب کسان کے گھر پیدا ہونے والی لڑکی کی کہانی ہے جس نے غیبی آوازوں کے کہنے پر تلوار اٹھائی اور اپنی جرات اور بہادری سے نہ صرف فرانس کو انگریزوں کے قبضے میں جانے سے بچا لیا بلکہ اس نے اپنے بادشاہ کی تاج پوشی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

پندرہویں صدی عیسوی میں برطانیہ کے خلاف سو سالہ جنگ کے آخری دنوں میں جون آف آرک کو جرت مندانہ فتوحات کی وجہ سے فرانس میں قومی ہیروئن کا درجہ حاصل ہے۔ وہ فرانس کے علاقے ورڈن سے 45 کلو میٹر دور ایک گاں ڈومیلیہ میں سنہ 1412 میں پیدا ہوئیں اور انھیں میڈ آف لورین بھی کہا جاتا ہے۔ صرف 17 برس کی عمر میں انھیں یہ یقین ہو گیا کہ غیب کی طرف سے انھیں یہ پیغام ملا ہے کہ وہ فرانس کو فتح سے ہمکنار کر سکتی ہیں۔ سنہ 1429 میں چارلس ہفتم نے اولیوں کے محاصرے کو توڑنے کی مہم ان کے سپرد کی اور انھوں نے اس مہم میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی۔ انھوں نے بہت سی دیگر جنگی مہمات میں شرکت کی لیکن سنہ 1430 میں وہ کومپینئے میں پکڑی گئیں اور انگریزوں نے انھیں سنہ 1431 میں توہمات پھیلانے کا مجرم قرار دے کر رون میں زندہ جلا دیا۔ ان کی ہڈیاں تک جل کر راکھ ہو گئیں کیونکہ ان کی لاش جل جانے کے بعد ان کی ہڈیوں کو دوبارہ جلایا گیا اور راکھ کو دریائے سین میں بہا دیا گیا تاکہ ان کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہے۔

سنہ 1455 میں اس وقت کے پوپ کالکسٹس سوئم نے ان کے مقدمے کی از سر نو سماعت کی اور ان کے خلاف فیصلے کو تبدیل کر دیا۔ لیکن ان کو مقبولیت اور تکریم سنہ 1909 میں حاصل ہوئی جب ان کی جائے پیدائش اور ان کی شخصیت میں بیسویں صدی کے اوائل میں عوامی دلچسپی بڑھنے لگی۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران ایسی اطلاعات بھی ملیں کہ فرانسیسی فوجی جون آف آرک کے عکس اپنے ساتھ لے کر میدان جنگ میں جاتے ہیں اور ایک موقع پر جرمن فوج کی سرچ لائٹس میں بادلوں میں ایک عکس دیکھا گیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ جون آف آرک کا تھا۔ سنہ 1920 میں انھیں باقاعدہ ایک روحانی شخصیت کے طور پر تسلیم کر لیا گیا اور ‘لورین کا کراس’ دوسری عالمی جنگ میں فرانسیسی افواج میں ایک علامت بن گیا۔

دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر اتحادی اور جرمن افواج میں کومپینیئے کے جنگلات میں معاہدہ ہوا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں پانچ سو سال قبل سنہ 1430 میں جون آف آرک کو انگریز فوج نے گرفتار کیا تھا۔ انٹرنیشنل میڈیا کے ریڈیو پروگرام فورم میں ادب، تاریخ اور فلم کے چار ماہرین نے ان کی ہنگامہ خیز زندگی، فوجی مہمات اور پھر ان پر مذہبی عقائد سے انحراف کرنے پر مقدمہ چلائے جانے کے مختلف پہلوں پر روشنی ڈالی۔ فرانس میں ایک کسان گھرانے کی اس لڑکی نے 16 برس کی عمر میں یہ دعوی کیا کہ اسے غیب سے یہ ہدایات ملی ہیں کہ وہ انگریزوں کے خلاف لڑائی میں فرانس کو فتح سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ جون آف آرک کی ہنگامہ خیز زندگی اور ان کی درد ناک موت پر یورپ اور امریکہ میں بے شمار کتابیں تحریر ہوئی ہیں، گانے بنائے گئے ہیں اور اتنی فلمیں تخلیق کی گئی ہے کہ تاریخ میں ان کی شخصیت لافانی ہو گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.