انٹرنیشنل

سعودی عرب کی مساجد میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی لگانے کا فیصلہ، لیکن یہ پابندی لگانے کا حکم کس نے دیا؟ تشویشناک رپورٹ

عام نمازوں میں صرف اذان اور اقامت کو بیرونی لاؤڈ سپیکروں پر ادا کیا جاسکے گا جبکہ مکمل نماز یا خطبات لاؤڈ سپیکر پر نہیں دیے جاسکیں گے

سعودی عرب کی مساجد میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی لگانے کا فیصلہ، لیکن یہ پابندی لگانے کا حکم کس نے دیا؟ تشویشناک رپورٹ سامنے آگئی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں حکام نے حکومت کے اس اقدام کا دفاع کیا ہے جس کے تحت مساجد میں لاڈ سپیکروں کے استعمال کو محدود کیا جائے گا۔ گذشتہ ہفتے ملک میں اسلامی امور کی وزارت نے اعلان کیا تھا کہ مساجد کے لاڈ سپیکروں کی آواز کو اپنی بلند ترین سطح سے کم کر کے اسے ایک تہائی تک اونچا کرنے کے بعد اذان دی جا سکے گی۔ ان ہدایات کے مطابق عام نمازوں میں صرف اذان اور اقامت کو بیرونی لاڈ سپیکروں پر ادا کیا جاسکے گا جبکہ مکمل نماز یا خطبات لاؤڈ سپیکر پر نہیں دیے جاسکیں گے۔

وزارتِ اسلامی امور کے وزیر عبد اللہ لطیف الشیخ نے کہا کہ یہ اقدام عوامی شکایات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے سوشل میڈیا پر قدامت پسند سعودی عرب میں کافی تنقید کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں سوشل میڈیا پر ایک ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنا شروع ہو گیا جس میں ریستورانوں اور کیفے میں اونچی آواز میں موسیقی پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس فیصلے کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ اگر آواز زیادہ ہو تو مساجد کے اردگرد رہنے والے لوگوں کے لیے یہ تنگی کا باعث ہے۔

عبد اللہ لطیف الشیخ کا کہنا ہے کہ شکایات کرنے والوں میں ایسے والدین بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ لاؤڈ سپیکروں سے ان کے بچوں کی نیند خراب ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے نماز پڑھنی ہوتی ہے وہ امام کی آذان کا انتظار نہیں کرتے۔ انھوں نے اس اقدام کی مخالفت کرنے والوں کو سلطنت کے دشمن قرار دیا اور دعوی کیا کہ وہ عوامی امن بگاڑنا چاہتے ہیں۔ یہ پابندیاں ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ملک کو قدرے آزاد خیال اور مذہب کا عوامی زندگی سے کردار کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.