انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

مودی سرکار کی مسلمانوں کو ملک سے نکالنے کیلئے ایک اور سازش بے نقاب، مندر کے ارد گرد بسنے والے مسلمانوں سے زبردستی گھر خالی کرائے جانے کا انکشاف

مسلمانوں کو زبردستی ایک ایسے اجازت نامے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جانے لگا، اجازت نامہ کی تحریرمیں وہ اپنی مرضی سے گھر خالی کررہے ہیں

مودی سرکار کی مسلمانوں کو ملک سے نکالنے کیلئے ایک اور سازش بے نقاب، مندر کے ارد گرد بسنے والے مسلمانوں سے زبردستی گھر خالی کرائے جانے کا انکشاف

انٹرنیشنل میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش میں مندر کے ارد گرد بسنے والی مسلمان آبادی سے زبردستی گھر خالی کرائے جارہے ہیں، مسلمانوں کو زبردستی ایک ایسے اجازت نامے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے جس میں یہ تحریر ہیکہ یہ زمین یا گھر وہ اپنی مرضی سے خالی کررہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گورکھ ناتھ مندر کے ارد گرد درجنوں گھر ہیں جس میں زیادہ تر مسلمان اقلیت کے ہیں جنہیں اجازت نامے پر دستخط کا کہا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ہندو انتہا پسندوں کے دبا کی وجہ سے اب تک کئی مسلمان فیملیز ان اجازت ناموں پر دستخط کرچکی ہیں اور اگر کچھ مسلمان رہائشی اجازت نامے پر دستخط سے انکار کرتے ہیں تو انہیں دبا میں لانے کے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ریاست اترپردیش کے ہندو انتہا پسند وزیراعلی یوگی ادتیاناتھ گورکھ ناتھ مندر کے سرپرست اعلی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت کی جنوب مشرقی ریاست اترپردیش کے معروف گورکھ ناتھ مندر کے قریب بسنے والوں کو اجازت نامے کے خطوط دیے گئے ہیں جس پر ان سے زبردستی دستخط لیے جارہے ہیں جب کہ اس اجازت نامے میں تحریر ہے کہ دستخط کرنے والا شخص رضا مندی سے اپنی زمین یا گھر حکومت کے حوالے کررہا ہے تاکہ مندر کے احاطے کی حفاظت یقینی بنائی جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق اجازت نامے میں تحریر ہے کہ ہمیں اس اجازت نامے پر کوئی اعتراض نہیں جس کے بعد ہی ہم نے اس پر دستخط کیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.