انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی حکومت کو گھر بھیجنے کی تیاریاں زور پکڑ گئیں، مخالف سیاسی کردار بھی سامنے آگئے، ہمسایہ ملک سے بھونچال کھڑا کر دینے والی رپورٹ آگئی

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے اس اقدام کو وزیر اعظم نریندر مودی کو براہ راست چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی حکومت کو گھر بھیجنے کی تیاریاں زور پکڑ گئیں، مخالف سیاسی کردار بھی سامنے آگئے، ہمسایہ ملک سے بھونچال کھڑا کر دینے والی رپورٹ آگئی۔

تفصیلات کے مطابق یوپی میں بی جے پی کے ایک سینئر رہنما نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ‘وزیر اعلی نے واضح طور پر کہ دیا ہے کہ اروند شرما کو کوئی اہم محکمہ تو کیا کابینہ کا وزیر بنانا بھی مشکل ہے۔ ریاستی وزیر سے زیادہ وہ انھیں کچھ بھی دینے کو تیار نہیں ہیں۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے اس اقدام کو وزیر اعظم نریندر مودی کو براہ راست چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ ‘پارٹی کی مرکزی قیادت اکثر یوگی آدتیہ ناتھ کو یاد دلاتی رہتی ہے کہ وہ کس کی وجہ سے وزیر اعلی بنے ہیں اور موقع ملنے پر یوگی آدتیہ ناتھ بھی یہ جتانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے کہ نریندر مودی کے بعد وزیر اعظم کے عہدے کے وہ واحد امیدوار ہیں۔ بی جے پی کے بہت سے رہنما بھی اس حقیقت کو قبول کرتے ہیں کہ اکثر لوگ یوگی آدتیہ ناتھ کو مودی کے متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں یا سوشل میڈیا یا کچھ چھوٹی تنظیمں کا جانب سے چلائی جانے والی مہم میں یوگی کے قریبی لوگوں کا ہاتھ ہے جس میں ایسے نعرے لگائے جاتے ہیں ‘وزیراعظم کیسا ہو، یوگی آدتیہ ناتھ جیسا ہو’

سینئر صحافی یوگیش مشرا یوگی کی طاقت کے پیچھے آر ایس ایس کی حمایت بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ‘اتر پردیش ایک بڑی ریاست ہے۔ یہاں کے وزیر اعلی اپنے آپ کو اگلے وزیر اعظم کی حیثیت سے دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔ چاہے وہ علاقائی پارٹیوں کے رہنما ہوں یا بی جے پی کے۔ دوسری بات یہ کہ سنگھ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ ہے۔ تمام احتجاج کے باوجود سنگھ کہ وجہ سے ہی وہ وزیر اعلی بنے تھے اور آج بھی وہ سنگھ کی پسند ہیں۔ اروند شرما کو پیراشوٹ کی طرح یہاں بھیجنے کا اقدام آر ایس ایس کی نظر میں مناسب نہیں ہے’۔

اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بی جے پی حکومت اب اپنی مدت پوری کرنے والی ہے لیکن ریاست میں براہ راست وزیر اعلی کو تبدیل کرنے کا کی بات پچھلے چار سالوں میں کبھی نہیں سامنے آئی جتنے یہ اندیشے آج ظاہر کیے جا رہیہیں یا یوں کہا جائے کہ اس طرح کی گفتگو شروع ہونے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی تھی۔ چاہے یہ امن و قانون کی صورتِ حال پر حکومت پر سوال اٹھانے کا معاملہ ہو یا بی جے پی کے ناراض ارکان اسمبلی کی ایک بڑی تعداد کے اسمبلی میں دھرنے پر بیٹھے رہنے کا مسئلہ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.