انٹرنیشنل

خواتین میں ایک خاص وزن اور جسامت رکھنے والے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے یا پھر …………؟ تہلکہ خیز رپورٹ سامنے آگئی

آور گلاس جسمات مردوں کو اس لیے پسند ہے کیونکہ یہ خاتون کے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے منسلک کی جاتی ہے

خواتین میں ایک خاص وزن اور جسامت رکھنے والے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے یا پھر …………؟ تہلکہ خیز رپورٹ سامنے آگئی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق ارتقائی بائیولوجسٹ کہتے ہیں کہ آور گلاس جسمات مردوں کو اس لیے پسند ہے کیونکہ یہ خاتون کے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے منسلک کی جاتی ہے۔ ان کے خیال میں جن خواتین میں ایسٹروجن زیادہ ہوتا ہے یعنی ان میں بچے پیدا کرنے کی بہتر صلاحیت ہوتی ہے، ان کی کمر پتلی اور کوہلے زیادہ چوڑے ہوتے ہیں۔ اگر بچے پیدا کرنے کی صلاحیت جینیاتی طور پر نسلوں میں منتقل ہوتی ہے تو آور گلاس جسامت بچے پیدا کرنے میں کامیابی کی نشانی ہوتی ہے۔ماہر نفسیات مریم لس کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ زیادہ ایمان دار لگنے، یا اپنے کیریئر میں اہل لگنے کے لیے یا بطور سیاستدان منتخب ہونے کے لیے خواتین کو زیادہ قدامت پسند انداز کے کپڑے پہننے چاہییں۔ مگر آور گلاس جسامت جیسی کچھ خصوصیات ہمیشہ سے ہی کیوں پسند کی جاتی ہیں؟ کیا ایسی خصوصیات بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کے بارے میں کوئی خفیہ پیغام دے رہی ہوتی ہیں؟ اور اگر ایسا ہے تو انسانی جسامت میں اتنی مختلف اقسام کیوں ہیں؟

اپنی آرام دہ کرسی پر برہنہ حالت میں لیٹے ہوئے، ہاتھ میں مور کے پر لیے اس ماڈل نے مڑ کر اپنی نظریں مصور پر جمائی ہوئی ہیں۔ یہ 19ویں صدی کے اوائل کا ایک منظر ہے اور مصور جین آگست ڈومنیق ایک ترک لڑکی کی تصویر بنا رہا ہے۔ اس پینٹگ کا نام لا گرینڈ اوڈالسک رکھا جانا ہے۔ مصور نے اس ماڈل کی کشش کو عکس بند کرنا ہے مگر کچھ گڑ بڑ ہے۔ جب عوام کو یہ پینٹگ دیکھائی گئی تو اس پر شدید تنقید کی گئی۔ ماڈل کی کمر بہت لمبی ہے اور اس کا جسم کئی مختلف سمتوں میں بچھا ہوا ہے۔

سنہ 2004 میں فرانسیسی ڈاکٹروں کے تجزیے کے مطابق اس لڑکی کا تصویر میں جو عکس ہے حقیقت میں اس طرح مڑنا ناممکن ہو گا۔ ان ڈاکٹروں میں سے ایک کمر کی درد کا ماہر ہے اور ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف اس طرح مڑنا ناممکن ہے بلکہ ان کی کمر جتنی لمبی ہے اس میں پانچ اضافی مہرے ہونے کی ضرورت ہو گی۔ اس دور میں آرلا کے رومانوی انداز میں برہنہ خواتین کی پینٹگز انتہائی مقبول ہیں جہاں کئی خواتین کی کمر انتہائی پتلی اور کوہلے انتہائی بڑے ہیں۔ یہ آور گلاس فگر اس دور میں حسن کا معیار تصور کیا جاتا تھا۔ کیا جین آگست ان ماڈلز کا جسم اس قدر تبدیل کرنا چاہتے تھے یا نہیں، یہ بحث تو جاری ہے مگر یہ ماڈل اس طرح مڑ کر پوز نہیں کر سکتی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ جین آگست اس ماڈل کو زیادہ سیکسی بنانا چاہ رہے تھے۔ مگر ظاہری شکل و صورت میں انتہائی تھوڑا فرق بھی دیکھنے والے کے لیے بہت زیادہ فرق ڈال سکتا ہے۔ خواتین میں کپڑوں میں تھوڑا سا فرق ان کے زیادہ قابلِ اعتبار ہونے، پرکشش ہونے یا اہل ہونے کا تاثر پیدا کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.