انٹرنیشنل

بھارت باسمتی چاول ایکسپورٹ کر کے پاکستان سمیت کتنے ملکوں کو نقصان پہنچا رہا ہے؟ سنسنی خیز سازش بے نقاب ہو گئی

زیر جائزہ عرصے میں پاکستان کی باسمتی اور دیگر اقسام کے چاول کی برآمد میں بہت زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے

بھارت باسمتی چاول ایکسپورٹ کر کے پاکستان سمیت کتنے ملکوں کو نقصان پہنچا رہا ہے؟ سنسنی خیز سازش بے نقاب ہو گئی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق انڈیا کی جانب سے بین الاقوامی مارکیٹ میں سستے چاول کی فراہمی نے پاکستان کے چاول کی برآمدات کو کیسے نقصان پہنچایا ہے اس کا اندازہ ملک کے مالی سال 21-2020 کے پہلے گیارہ مہینوں میں چاول کی ایکسپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ زیر جائزہ عرصے میں پاکستان کی باسمتی اور دیگر اقسام کے چاول کی برآمد میں بہت زیادہ کمی دیکھنے میں آئی اور یہ چودہ فیصد تک گر گئی۔ اس عرصے میں پاکستان نے 33 لاکھ ٹن چاول برآمد کیے جو گذشتہ سال کے اسی عرصے میں 38 لاکھ ٹن تھے۔ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر عبدالقیوم پراچہ بتاتے ہیں کہ پاکستان بین الاقوامی منڈی میں چاول اوسطا 450 ڈالر فی ٹن کی قیمت پر فروخت کر رہا ہے جبکہ اسی کوالٹی کا انڈین چاول اوسطا 360 ڈالر فی ٹن کے ریٹ پر دستیاب ہے۔

عیسی بتاتے ہیں کہ انھی وجوہات کی بنا پر وہ اس وقت زیادہ چاول انڈیا سے درآمد کر رہے ہیں۔ پاکستان میں چاول کی تجارت سے وابستہ افراد کا بھی ماننا ہے کہ پاکستان سے برآمد ہونے والا چاول بین الاقوامی مارکیٹ میں اسی کوالٹی کے انڈین چاول سے مہنگا پڑتا ہے اور اسی لیے انٹرنیشنل مارکیٹ میں انڈین چاول تیزی سے پاکستانی چاول کی جگہ لے رہا ہے۔ چاول کے پاکستانی برآمدکنندگان انڈیا سے برآمد ہونے والے سستے چاول کو ایک قسم کی مبینہ ڈمپنگ قرار دیتے ہیں اور اس کا مبینہ مقصد یہ ہے کہ انڈیا زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنا چاول فروخت کر سکے اور چاول کی بین الاقوامی تجارت کے شعبے میں دوسرے تجارتی حریف ممالک پر سبقت لے جائے۔ ڈمپنگ سے مراد کسی بھی پراڈکٹ کو اس پر آنے والی لاگت سے کم قیمت پر فروخت کرنا ہے تاکہ مارکیٹ کو اپنے کنٹرول میں کیا جا سکے۔

اِس وقت مجھے انڈین چاول سستے داموں مل رہا ہے اس لیے میں اسے خرید رہا ہوں۔ اگر مجھے انڈیا اور پاکستان سے آنے والا چاول ایک ہی قیمت پر ملے تو پھر بھی میری ترجیح انڈیا سے آنے والا چاول ہی ہو گی، جو پکانے میں اور ذائقے میں کافی بہتر ہے۔ یہ کہنا ہے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں مقیم چاول کے آڑھتی عیسی کین کا جو انڈیا اور پاکستان سے چاول خرید کر انھیں افریقی ممالک کی منڈیوں میں فروخت کرتے ہیں۔ عیسی کہتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان میں پیدا ہونے والے چاول کی کوالٹی میں اگرچہ کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا مگر پھر بھی انڈین چاول اپنے ذائقے میں تھوڑا بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ کم قیمت بھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس چاول کی طلب زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور انڈیا چاول کے برآمدی شعبے میں ایک دوسرے کے حریف ہیں۔ دونوں ممالک باسمتی چاول کی جیوگرافیکل انڈیکشن (جی آئی)کی رجسٹریشن کے لیے یورپی یونین میں ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہیں۔ جب انڈیا نے باسمتی چاول کے حقوق اپنے نام محفوظ کرنے کے لیے یورپی یونین میں درخواست دی تھی تو جوابا پاکستان نے اپنا کیس یورپی یونین میں جمع کروایا جس کے تحت باسمتی چاول پر دونوں ممالک کا مشترکہ حق ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر اب انڈیا کی جانب سے سستے چاول کی انٹرنیشنل مارکیٹ میں فراہمی کو پاکستانی برآمدکنندگان چاول کی ڈمپنگ قرار دے رہے ہیں جو ان کے نزدیک بین الاقوامی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.