انٹرنیشنل

مجھے معلوم تھا کہ طالبان کبھی بھی لڑکیوں کو سکول جاتے نہیں دیکھنا چاہتے اسی لئے ہم نے لڑکیوں کے خفیہ سکول……؟ چونکا دینے والی رپورٹ

تمام خواتین کا ماننا ہے کہ عالمی وباء کے دوران انھیں نہ صرف ڈیجیٹل تقسیم سے نبرد آزما بلکہ صنفی امتیاز، تہذیب اور تنازع کیخلاف بھی جنگ لڑنی پڑی

مجھے معلوم تھا کہ طالبان کبھی بھی لڑکیوں کو سکول جاتے نہیں دیکھنا چاہتے اسی لئے ہم نے لڑکیوں کے خفیہ سکول……؟ چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آگئی۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق امریکی اور نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلا کے پسِ منظر میں تین مختلف نسلوں کی تین خواتین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ انھیں مستقبل کے حوالے سے کیا خدشات لاحق ہیں۔ ان میں سے ایک تجربہ کار ٹیچر ہیں، دوسری یونیورسٹی سے گریجویٹ ہو چکی ہیں جبکہ تیسری ابھی سکول میں پڑھ رہی ہیں۔ ان تمام خواتین کا ماننا ہے کہ عالمی وبا کے دوران انھیں نہ صرف ڈیجیٹل تقسیم سے نبرد آزما ہونا پڑا بلکہ صنفی امتیاز، تہذیب اور تنازع کے خلاف بھی جنگ لڑنی پڑی۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ شہلا فرید نے کتابیں چھپانا شروع کر دی ہیں اور نہ ہی یہ کوئی انھونی ہے کہ وہ اب ایک خفیہ سکول شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔ شہلا سمیت افغانستان کی کئی خواتین کی بیٹیوں کی تعلیم خطرے سے دوچار ہے۔

شہلا اس سے قبل ایک سکول ٹیچر تھیں تاہم آج کل وہ ملک کے دارالحکومت میں قائم کابل یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران وہ آن لائن پڑھاتی رہی ہیں لیکن وہ بتاتی ہیں کہ ان کے اکثر طلبہ آن لائن کلاسوں کے دوران مسائل سے دوچار رہے ہیں۔ میری اکثر طالبات کے پاس سمارٹ فون نہیں ہے اور اکثر کو ان کی فیملیز انٹرنیٹ استعمال نہیں کرنے دیتیں۔ جن طالبات کو کلاس میں شامل ہونے کے لیے ان کے گھر کے کسی مرد کا فون دیا جاتا، ان کی کلاس کے دوران نگرانی کی جاتی، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہ کس سے بات کر رہی ہیں۔

تاہم صرف ڈیجیٹل تقسیم ہی خواتین کے لیے رکاوٹ نہیں ہے۔ افغانستان میں مسلح طالبان اور حکومت کے درمیان جاری تنازع ایک انتہائی اہم موڑ پر ہے۔ جہاں امریکی کی سربراہی میں یہاں موجود افواج کا انخلا جاری ہے، اکثر افراد کو خدشہ ہے کہ سخت نظریات رکھنے والے اسلام پسند گروہ کی طاقت میں اضافہ ہو گا۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران طالبان کی جانب سے کچھ علاقوں پر قبضوں کے دعوے کیے گئے ہیں۔ طالبان شدت پسند پدر شاہی قوانین نافذ کرنے کے لیے مقبول ہیں اور انھوں نے اس سے قبل حکمرانی کے دوران خواتین کی تعلیم پر پابندی عائد کی تھی اور خواتین کو نوکری کرنے یا کسی مرد رشتہ دار کے بغیر گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.