انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

آن لائن ڈیٹنگ اپیس کو جوائن پر ایک لڑکی کو کیا کچھ گنوانا پڑا؟ ایپ چھوڑنے والی شینا سلور نے ایسا سچ بے نقاب کر دیا کہ سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں

میرے لیے سب سے مشکل یہ تھا کہ ایسا لگا کہ مجھے مفت کے سیکس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،یہ اچھا نہیں لگتا اور اس سے دکھ ہوتا ہے

آن لائن ڈیٹنگ اپیس کو جوائن پر ایک لڑکی کو کیا کچھ گنوانا پڑا؟ ایپ چھوڑنے والی شینا سلور نے ایسا سچ بے نقاب کر دیا کہ سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

تفصیلات کے مطابق آن لائن ڈیٹنگ اپیس کو چھوڑنے والی شینا سلور کہتی ہیں کہ میرے لیے سب سے مشکل یہ تھا کہ ایسا لگا کہ مجھے مفت کے سیکس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اچھا نہیں لگتا اور اس سے دکھ ہوتا ہے۔ شینا سلور نیویارک میں مقیم ایک مصنفہ ہیں اور ایک ڈیٹنگ پوڈ کاسٹ اے سنگل سرونگ کی میزبان بھی ہیں۔ انھوں نے یہ ڈیٹنگ ایپس کئی سالوں تک استعمال کی ہیں۔ مجھے اکثر ہیلو سے بھی پہلے کسی جنسی عمل کی درخواست کی جاتی تھی۔ اپنا نام بتانے سے پہلے لوگ ایسا کرتے تھے۔ اس دنیا میں مجھے بار بار رد کیا جا رہا تھا اور اس سے مجھے اپنی اہمیت کم لگنے لگی تھی۔ ایسے پیغامات ان پلیٹ فارمز پر بھرے ہوتے ہیں اور یہ مردوں اور عورتوں دونوں کو بھیجے جاتے ہیں۔ مگر خواتین کے ان سے متاثر ہونے کا تناسب کہیں زیادہ ہے۔

پیو ریسرچ سنٹر کے ڈیٹا کے مطابق کئی خواتین ڈیٹگ ایپس اور سائٹوں پر ہراسانی کی شکار ہوتی ہیں۔ 18 سے 34 سال کی عمر کی خواتین میں سے 57 فیصد کا کہنا ہے کہ انھیں جنسی طور پر نازیبا پیغامات بھیجے گئے ہیں یا ایسی تصاویر بھیجی گئی ہیں جو انھوں نے مانگی ہی نہیں۔ یہی حال نوجوان لڑکیوں کا بھی ہے جن کی عمریں 15 سے 17 سال کی ہیں جو کہ ایسی پیغامات ملنے کی اطلاع دیتی ہیں۔ کچھ صارفین نے تو ذہنی دبا ؤیا اس سے بھی زیادہ شدید تجربات کا ذکر کیا ہے۔ 2017 میں پیو ریسرچ سنٹر کی ایک تحقیق سے پتا چلا تھا کہ 36 فیصد صارفین کو ان پلیٹ فارمز پر روابط انتہائی پریشان کن لگے تھے۔ 2020 کی تحقیق میں 18 سے 35 سال کی خواتین نے جسمانی نقصان تک کا ذکر کیا۔ 19 فیصد خواتن نے یہ شکایت کی جبکہ 9 فیصد مردوں نے یہ شکایت کی۔ اس کے علاوہ ایک تحقیق میں پتا چلا کہ ہیٹرو سیکشوئل اور بائی سیکشوئل مرد کم ہی ان ایپس سے منسلک خطرات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ نوجوانوں کے کلچر کے بارے میں لکھنے والی نینسی جو سیلز ان ایپس سے اس قدر پریشان ہوئی تھی کہ انھوں نے اس پر ایک کتاب لکھ ڈالی۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ چیزیں اتنی جلدی نارمل کر دی گئی ہیں جو کہ کبھی بھی نارمل نہیں ہو چاہیے جیسے کہ نازیبا گفتگو، جسمانی اور ذہنی نقصان وغیرہ۔ وہ کہتی ہیں کہ ٹھیک ہے ان ایپس پر ہر کسی کے ساتھ یہ نہیں ہو رہا مگر یہ اس قدر تو ہو رہا ہے کہ ہمیں اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.