انٹرنیشنل

مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی سکھ لڑکیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے؟ الزامات میں کتنی حقیقت ہے؟ پوری کہانی کھل کر سامنے آگئی

حکومت سنگھ کا کہنا ہے کہ پولیس نے لڑکی کو رات بھر وومن پولیس اسٹیشن میں رکھا اور اگلے ہی دن لڑکی کو رہا کرکے گھر والوں کے حوالے کردیا

مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی سکھ لڑکیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے؟ الزامات میں کتنی حقیقت ہے؟ پوری کہانی کھل کر سامنے آگئی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق 28 سالہ دنمیت کور کے اہل خانہ کو اس وقت شدید صدمہ پہنچا جب چھ جون کو دنمیت کور اپنے گھر سے نکلیں، اور کچھ ہی دیر بعد انھوں نے اپنی بہن کو فون کیا اور کہا کہ ‘مجھے ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرنا۔’ جب ہم بدھ کی سہ پہر سرینگر کے مہجور نگر میں دنمیت کور کے گھر پہنچے اور گیٹ کے اندر داخل ہوئے تو گھر میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ گھر کے اندر ہماری ملاقات دنمیت کور کے چچا حکومت سنگھ سے ہوئی۔ دنمیت کے والدین اس وقت کشمیر میں موجود نہیں تھے اور نہ ہی ہم دنمیت کے بھائی سے مل سکے۔

حکومت سنگھ نے بتایاکہ یہ گذشتہ چھ جون کی بات ہے۔ دنمیت شام کے وقت گھر سے باہر نکلی اور اپنی بہن کو فون کیا اور اسے روتے ہوئے کہا کہ مجھے اب ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرنا۔ لیکن ایک گھنٹہ میں ہی ہم نے دنمیٹ کو سری نگر کے علاقے بگات میں اس کے ‘بوائے فرینڈ’ مظفر شعبان کے گھر سے پولیس کی مدد سے برآمد کیا۔ پولیس لڑکی کو سری نگر کے صدر پولیس اسٹیشن لے گئی، اس وقت لڑکی نے کہا تھا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ہی رہے گی۔’ پولیس پر الزام لگاتے ہوئے حکومت سنگھ نے کہا کہ ایس ایچ او دنمیت کو اپنے ساتھ دفتر لے گئے اور اس کا ‘برین واش کیا۔

حکومت سنگھ کے مطابق دو گھنٹے کے بعد لڑکی کا رویہ بدل گیا اور اس نے کہا کہ وہ اپنے والدین کے گھر میں غیر محفوظ محسوس کرتی ہے۔’ پولیس اس بارے میں باضابطہ طور پر کچھ کہنے سے گریز کر رہی ہے لیکن ایک پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو لڑکی دوبارہ گھر سے کیوں بھاگتی۔ پولیس نے بتایا کہ میڈیکو-لیگل کارروائیوں میں تو کچھ وقت لگتا ہی ہے۔

حکومت سنگھ کا کہنا ہے کہ پولیس نے لڑکی کو رات بھر وومن پولیس اسٹیشن میں رکھا اور اگلے ہی دن لڑکی کو رہا کرکے گھر والوں کے حوالے کردیا۔ حکومت سنگھ کے مطابق دنمیت کے گھر والے اسے تقریبا چار دن کے بعد جموں لے گئے اور کچھ دنوں بعد پھر سری نگر واپس لے آئے۔ حکومت سنگھ کا کہنا ہے کہ کچھ دن بعد دنمیت نے پھر کہا کہ وہ پنجاب کے گولڈن ٹمپل (سورن مندر)جانا چاہتی ہے۔ حکومت سنگھ کے مطابق ‘دنمیت کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے اس کے والدین اسے پنجاب کے گولڈن ٹیمپل (ہرمندر صاحب، امرتسر)لے گئے اور کچھ دنوں بعد اسے واپس جموں لے آئے۔’

حکومت سنگھ نے کہا کہ جموں واپس آنے کے بعد پولیس کی ٹیم رات کے دو بجے جموں کے جانی پورہ علاقے میں اس کے بھائی (دنمیت کے والد) کے گھر پہنچی اور صبح پو پھٹتے ہی کم از کم 20 پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے اور زبردستی لڑکی کو گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔ اور اس کے بعد اسے سرینگر کی ایک ذیلی عدالت میں پیش کیا۔

دنمیت کے بڑے چچا ہربھجن سنگھ نے بتایا کہ اس دوران لڑکے (مظفر شعبان جس کے ساتھ دنمیت نے شادی کا دعوی کیا ہے)کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کے کنبہ کے بہت سے افراد بھی موجود تھے، جبکہ لڑکی کے اہل خانہ کو عدالت کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ہربھجن نے مزید کہا: ‘ہمیں نہیں معلوم کہ جج نے عدالت کے اندر کیا فیصلہ کیا۔ عدالت کے اندر ہی لڑکی کو لڑکے کے حوالے کردیا گیا اور ہمیں یہ تک نہیں معلوم ہو سکا کہ لڑکی اور لڑکے کو کس دروازے سے باہر بھیجا گیا لیکن دنمیت خود جو کہانی بتاتی ہیں وہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ کچھ دن پہلے دنمیت کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ دنمیت کے چچا حکومت سنگھ اور سکھ تنظیم کے جگموہن سنگھ رائنا نے تصدیق کی ہے کہ ویڈیو انھی کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.