انٹرنیشنل

میں نے اپنے کالے رنگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے رنگ گورا کرنے والی کریم استعمال کرلی پھر کیا تھا میرے والدین بھی؟ چونکا دینے والی رپورٹ

دس برس سے زیادہ عرصے تک جلد کو گورا کرنیوالی کریم استعمال کرنے کے بعد خاتون کی رنگت اتنی بدل گئی کہ ان کے والد بھی انھیں نہ پہچان پائے

میں نے اپنے کالے رنگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے رنگ گورا کرنے والی کریم استعمال کرلی پھر کیا تھا میرے والدین بھی؟ چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آگئی۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو کریمیں عموما ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر نہیں خریدی جا سکتیں، وہ دکانوں پر کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔ یہ کریمیں عموما تھوڑے عرصے کے لیے جلد کی خاص بیماریوں جیسا کہ ایگزیما کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق ان کریموں کو ایک ہفتے سے زیادہ عرصے تک لگاتار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کریموں کے ضمنی اثرات یہ ہوتے ہیں کہ وہ جلد کی رنگت کو گورا کر دیتی ہیں، چنانچہ بہت سے لوگ اسے بیوٹی پراڈکٹ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ جلد کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ لوگوں کو اس قسم کی کریموں کے استعمال سے جلد کے دیرپا مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ دس برس سے زیادہ عرصے تک جلد کو گورا کرنے والی کریم استعمال کرنے کے بعد ایک خاتون کی رنگت اتنی بدل گئی کہ ان کے والد بھی انھیں نہیں پہچان پائے۔ بریڈ فورڈ سے تعلق رکھنے والی گرازیا نے 18 برس کی عمر میں روزانہ کی بنیاد پر سٹیرائڈ کریم کا استعمال کرنے کے بعد گذشتہ برس اسے ترک کر دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے والد نے جب انھیں دیکھا تو وہ دنگ رہ گئے کیونکہ ان کی رنگت بہت سفید ہو گئی تھی۔

گرازیا کی عمر اب 29 برس ہے اور وہ آٹھ برس قبل اٹلی سے بریڈفورڈ منتقل ہوئیں جہاں پر انھوں نے کلوبٹاسول کریم کا استعمال جاری رکھا۔ ملک سے باہر رہنے کی وجہ سے وہ کئی برس تک اپنے والد کو نہیں دیکھ پاتیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے ایک بار کہا کہ وہ مجھے پہچان ہی نہیں سکے کیونکہ ہم اتنے عرصے سے نہیں ملے تھے۔ وہ بہت ناراض تھے اور انھوں نے مجھ سے التجا کی کہ میں ان کریموں کا استعمال کرنا چھوڑ دوں۔ جب گرازیا نے 18 برس کی عمر میں ان کریموں کا استعمال کرنا شروع کیا تو ان کی جلد کی رنگت بالکل مختلف تھی۔ ‘میں یہ سوچتی تھی کہ میں بدصورت ہوں اور اب میں پریشان ہوں کہ میں نے اتنے عرصے تک اسے استعمال کیا۔ میرے خیال میں خود کو پسند کرنا ایک عمل ہے۔

کنسلٹنٹ ڈرمٹالوجسٹ ڈاکٹر ولایت حسین نے گرازیا کا معائنہ کرنے کی حامی بھری تاکہ وہ اس سٹیرائڈ کریم کے دیرپا نقصانات کے بارے میں پتا لگا سکیں۔ جب انھوں نے 18 برس کی عمر میں گرازیا کی تصویر اور ان کی اصل رنگت دیکھی تو انھیں یقین نہیں آیا۔ انھوں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ واقعی آپ کی تصویر ہے؟ خفیہ طور پر کام کرنے والے صحافیوں کو سات میں سے چھ بیوٹی اینڈ ہیئر سیلونز پر یہ کریمیں رکھی ہوئی ملیں جبکہ ساتویں سٹور پر یہ کریم سٹاک میں موجود نہیں تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.