انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

حماس اور اسرائیل کے درمیان 11 روزہ لڑائی کے بعد اب غزہ کی حالت کیسی ہے؟ رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات منظرعام پر آگئے

پہلے سے ہی مشکل حالات میں گھڑی، اس سال مئی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان مابین11روزہ لڑائی کے بعد غزہ کی پٹی تباہ و برباد ہوچکی ہے

حماس اور اسرائیل کے درمیان 11 روزہ لڑائی کے بعد اب غزہ کی حالت کیسی ہے؟ رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات منظرعام پر آگئے ہیں۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق پہلے سے ہی مشکل حالات میں گھری، اس سال مئی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان مابین 11 روزہ لڑائی کے بعد غزہ کی پٹی تباہ و برباد ہوچکی ہے۔ غزہ ایک کھلے آسمان والا جیل ہے جہاں عوام اپنی زندگی دوبارہ بحال کرنے کے لیے ایک مشکل جدوجہد میں مصروف ہیں۔ اسرائیل کے فضائی حملوں میں تباہ ہونے والے سکولوں، سڑکوں، رہائشی عمارتوں اور خطے کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کی فوری ضرورت ہے، لیکن سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ غزہ کو اس کے 20 لاکھ باشندوں کی ذہنی صحت پر فوری طور پر توجہ دینی ہے کیونکہ وہ بری طرح سے تباہی کی طرف جا رہی ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی، یو این آر ڈبلیو اے کی ترجمان، تمارا الفریائی کا خیال ہے کہ غزہ کے عوام میں ذہنی تنا عروج پر ہے۔

اردن کے دارالحکومت امان سے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد غزہ میں میں نے جس سے بھی بات کی مجھے بہت تکلیف ہوئی، ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس بار لڑائی پچھلی جنگوں سے کہیں زیادہ تھی۔ اور یہ سب کورونا وائرس کی وبا بیماری کے دوران ہوا ہے۔ غزہ اس جنگ سے پہلے ہی کئی سالوں سے بندشیں برداشت کر رہا ہے، لہذا لوگ رواداری کی آخری حد کو پہنچ چکے ہیں۔ غزہ میں لوگوں کو ایک بہت طویل عرصے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یو این آر ڈبلیو اے غزہ کے علاقے میں فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد اور علاقے میں تعمیر نو میں مصروف ہے۔ غزہ کی 20 لاکھ آبادی میں سے 14 لاکھ فلسطینی پناہ گزین ہیں، جنھیں 1948 میں اسرائیل کے قیام پر اپنے گھروں سے بے گھر کر دیا گیا تھا۔

28 سالہ طاہر الممدون غزہ کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں مگر وہ غزہ کے لوگوں کے دکھوں کی نمائندگی کرتے ہیں، خواہ ذہنی ہو یا جسمانی۔ 13 مئی کو غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملوں کے دوران ان کے مکان کا ایک حصہ تباہ ہوگیا۔ طاہر کا کہنا ہے کہ جمعرات 13 مئی ایک عام دن تھا۔ حملے سے قبل ہم بیٹھے بات کر رہے تھے۔۔۔ میرے والد، میری خالہ اور میں، ہم عید منانے کی تیاری کر رہے تھے لیکن کچھ ہی منٹوں میں، ہماری عمارت پر راکٹوں کی بارش شروع ہوگئی۔

اس حملے کو یاد کرتے ہوئے، طاہر کا کہنا ہے کہ میرے ہاتھ کے سوا میرا پورا جسم ملبے کے نیچے تھا، لہذا میں نے اپنا فون شور مچانے کے لیے استعمال کیا تاکہ کوئی میرا مقام دیکھ سکیں اور مجھے تلاش کریں۔ طاہر کو فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے بچا لیا لیکن ان کے والد اور خالہ کو بچایا نہیں جاسکا۔ میں حملے کے دوران کبھی بھی بیہوش نہیں ہوا، میں نے اپنے والد اور خالہ کو دعا کرتے ہوئے سنا، فائر فائٹر جب مجھے بچانے کے لیے آئے تو اس سے پہلے، میں نے انھیں چند منٹ کے لیے دعا کرتے ہوئے سنا، پھر وہ خاموش ہوگئے، لہذا مجھے معلوم تھا کہ وہ مر چکے ہیں۔ ایک لمحے وہ زندہ تھے، عید منانے کی بات کر رہے تھے، اگلے ہی لمحے ان میں سے دو کا انتقال ہوگیا اور تیسرا شدید زخمی تھا۔ یہ غزہ کی زندگی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.