انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

امریکا نے افغانستان میں جنگ لڑی لیکن درحقیقت اس کو اس جنگ کی قیمت کیسے اور کتنی ادا کرنا پڑی؟ ہوش اڑا دینے والے حقائق

اس جنگ میں برطانیہ اور دیگر اقوام کے 450 فوجیوں سمیت، امریکہ کے دو ہزار تین سو ہزار فوجی ہلاک ہوئے اور بیس ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے

امریکا نے افغانستان میں جنگ لڑی لیکن درحقیقت اس کو اس جنگ کی قیمت کیسے اور کتنی ادا کرنا پڑی؟ ہوش اڑا دینے والے حقائق سامنے آگئے ہیں۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق اس جنگ میں برطانیہ اور دیگر اقوام کے 450 فوجیوں سمیت، امریکہ کے دو ہزار تین سو ہزار فوجی ہلاک ہوئے اور بیس ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے لیکن اس جنگ کی اصل قیمت افغان عوام کو چکانا پڑی ہے، بعض تحقیقات کے مطابق، افغان سیکیورٹی فورسز کے ساٹھ ہزار سے زیادہ ارکان ہلاک ہو چکے ہیں۔ تقریبا ایک لاکھ گیارہ ہزار غیر فوجی افغان ہلاک یا زخمی ہوئے۔ افغانوں کی ہلاکت یا ان کے زخمی ہونے کی تعداد اس وقت سے جمع ہونا شروع ہوئی جب اقوام متحدہ نے سنہ 2009 سے ایک منظم طریقے سے اعداد و شمار جمع کرنا شروع کیے۔ ایک تحقیق کے مطابق امریکہ کو اس جنگ کا ایک کھرب ڈالر کا خرچا برداشت کرنا پڑا ہے۔

بیس برسوں کی جنگ کے بعد امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا ہو گیا ہے۔ کابل کے قریب بگرام کا فوجی اڈہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے طالبان اور القاعدہ کے خلاف فوجی کارروائیوں کا مرکز تھا۔ امریکہ کی قیادت میں مغربی افواج افغانستان میں دسمبر سنہ 2001 میں داخل ہوئی تھیں، اور بگرام کے فوجی اڈے کو ایک بہت ہی بڑے اور جدید فوجی اڈے کے طور پر جس میں دس ہزار فوجیوں کو رکھنے کی گنجائش تھی، اس کی تعمیر بعد میں کی گئی۔

امریکی صدر جو بائیڈن کے گیارہ ستمبر تک افغانستان سے مکمل انخلا کے اعلان کے بعد اب امریکیوں نے یہ اڈہ خالی کر دیا ہے۔ اس دوران طالبان افغانستان بھر میں مختلف ضلعوں پر قبضہ کرتے ہوئے تیزی سے پیش رفت کر رہے ہیں۔ اس جنگ کی سب کو بہت ہی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے، یہ قیمت نہ صرف مالی صورت میں چکائی گئی بلکہ قیمتی انسانی جانوں کا بھی ضیاع ہوا۔ لیکن اتنا سب کچھ کرنے کے مقاصد کیا تھے اور کیا امریکہ نے وہ تمام مقاصد حاصل کر لیے ہیں؟

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.