انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

ایسا ہونا تو نہیں چاہیے کہ بھارت میں لوگ کھل کر ”سیکس“ پر بات کرتے ہوئے شرماتے ہیں، اسی لئے اب میں ان سب کی مدد کرتی ہوں جو سیکس؟ معاشرتی حقیقت بے نقاب

میں نے سیکس اور نیورو لنگوئسٹک پروگرامنگ کی کوچ بننے کی تربیت حاصل کی اور ایک انسٹاگرام پیج بنایا جہاں لوگ مجھ سے کچھ بھی پوچھ سکتے تھے

ایسا ہونا تو نہیں چاہیے کہ بھارت میں لوگ کھل کر ”سیکس“ پر بات کرتے ہوئے شرماتے ہیں، اسی لئے اب میں ان سب کی مدد کرتی ہوں جو سیکس؟ معاشرتی حقیقت بے نقاب ہو گئی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق پلوی برنوال کا کہنا تھا کہ مجھے احساس ہوا کہ جنسی تعلقات کے بارے میں کھل کر بات کرنے کی ایک جگہ بنانے کا موقع ہے اور ایک ایسا پلیٹ فارم جہاں لوگ مجھ سے سوالات پوچھ سکتے ہیں۔میں نے سیکس اور نیورو لنگوئسٹک پروگرامنگ کی کوچ بننے کی تربیت حاصل کی اور ایک انسٹاگرام پیج بنایا جہاں لوگ مجھ سے کچھ بھی پوچھ سکتے تھے۔ گفتگو کو آگے بڑھانے کے لیے میں نے اپنے جنسی تجربات کے بارے میں تفصیلات پوسٹ کیں۔ یہ کامیاب ہو گیا۔ لوگوں نے جنسی افسانوں، خود لذتی کے حوالے سے ممنوعہ موضوعات، ایسی شادیوں جن میں سکیس تھا ہی نہیں، اور جنسی بدسلوکی سمیت دیگر بہت سے مضامین کے بارے میں مشورے لینے شروع کر دیے۔ اور کئی سوالات والدین کی جانب سے بھی آئے۔ پھر دو سال پہلے مجھ سے ٹیڈ ٹاک دینے کو کہا گیا جس میں مجھے بتانا تھا کہ والدین کو اپنے بچوں سے سیکس اور اس حوالے رضامندی کے بارے میں کیوں بات کرنی چاہیے۔ اس موقعے پر میں نے سٹیج پر ایک ساڑھی پہنی جس سے میں یہ ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ صرف مغربی ثقافت سے متاثر انڈین خواتین ہی نہیں جو سیکس کرتی ہیں۔ میں نے لوگوں کو بتایا کہ 2019 میں سائٹ پورن ہب کے اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں پورن سائٹوں پر پابندی کے باوجود انڈیا میں سب سے زیادہ پورن دیکھا گیا۔

اس ٹیڈ ٹاک کے بعد مجھے ایک دن میں 30 تیس سوالات اور کوچنگ کی درخواستیں آنا شروع ہوگئیں۔ یہ ایک عورت ہوسکتی ہے جو جنسی کھلونوں کے استعمال کے بارے میں پوچھ رہی ہو، یا کوئی مرد ہو سکتا ہے جو پوچھتا ہو کہ کووڈ سے صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ مشت زنی کرنا اس کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔ (میرا جواب: کووڈ میں مشت زنی جسمانی تھکن کا باعث بن سکتا ہے لیکن صحتیابی کے بعد معمول پر واپس جانا بالکل ٹھیک ہے۔) ان سوالات سے مجھے احساس ہونے لگا کہ ہماری زندگی کے کچھ انتہائی تکلیف دہ حصے وہ ہیں جو جنسی تعلقات کے بارے میں گفتگو نہ کرنے کی وجہ سے ہیں۔ اکثر اوقات تو سیکس بنیادی مسئلہ ہوتا ہی نہیں۔

میرے والدین کے کیس میں معاملہ یہ تھا کہ وہ ایک دوسرے سے صحیح سے بات چیت نہیں کر سکتے تھے۔ میری اپنی شادی میں سیکس کی کمی بھی اس وجہ سے تھی کہ ہم ایک دوسرے سے بات نہیں کر سکتے تھے۔ میرا بیٹا اب آٹھ سال کے قریب ہے اور میں جانتی ہوں کہ چند سالوں میں اس میں بھی تجسس ہوگا۔ جب میں نے اسے اپنا دودھ چھڑوایا تو میں نے اسے بتایا کہ اب اس کی عمر ہو چکی ہے کہ وہ کسی عورت کے جسم کے کچھ حصوں کو ہاتھ نہ لگائے۔ اس وقت وہ بہت چھوٹا تھا لیکن وہ سمجھ گیا تھا۔ جب اس کا جنسی طور پر سرگرم ہونے کا وقت آئے گا تو میں امید کرتی ہوں کہ میں نے اسے ایک ایسے ماحول میں پالا ہے جہاں وہ اچھی طرح سے باخبر اور محفوظ رہے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.