انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

میں اس بات پر بہت حیران ہوں کہ لڑکیاں خود اپنی تصاویر…………؟ ناروے سے سوشل میڈیا ایکسپرٹ نے حقیقت کھول دی

لندن سے تعلق رکھنے والی ایم کلارکسن بھی اس سے اتفاق کرتی ہیں کہ ہمیں سوشل میڈیا پر موجود مواد کو دیکھنے میں سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنا چاہیے

میں اس بات پر بہت حیران ہوں کہ لڑکیاں خود اپنی تصاویر…………؟ ناروے سے سوشل میڈیا ایکسپرٹ نے حقیقت کھول دی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق لندن سے تعلق رکھنے والی ایم کلارکسن بھی اس سے اتفاق کرتی ہیں کہ ہمیں سوشل میڈیا پر موجود مواد کو دیکھنے میں سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یہ 26 سالہ انفلوئنسر اکثر اپنی بغیر ایڈٹ کی گئی تصاویر پوسٹ کرتی ہیں اور فلٹرز اور ایڈٹنگ ایپس کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پر بات کرتی ہیں مگر ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔ ‘جب میں 16 سال کی تھی تو میں نے فوٹوشاپ ڈان لوڈ کیا اور اسے چلانا سیکھا تاکہ میں فیس بک پر اپنی بکینی میں تصویر پوسٹ کر سکوں۔ میں جانتی ہوں کہ جب میں اپنے جسم سے خوش نہیں تھی، اگر اس وقت یہ ایپس موجود ہوتیں تو میں نے انھیں استعمال کیا ہوتا۔ آپ نے بھی کیا ہوتا۔’ وہ جب چھوٹی تھیں تو ایم کہتی ہیں کہ ان کے لیے خود کا میگزین کوورز پر موجود خواتین سے موازنہ کرنا مشکل تھا کیونکہ وہ ہفتے میں صرف دو مرتبہ ہی آتے تھے۔

آج وہ ان نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے پریشان ہیں جو انسٹاگرام استعمال کرتے ہیں اور روزانہ ’50 سے 100′ ایڈٹ شدہ تصاویر دیکھتے ہیں۔ برطانوی ارکانِ پارلیمان نے بھی ایک بل متعارف کروایا تھا کہ لوگ اپنی ایڈٹ کی گئی تصاویر کے ساتھ اعتراف شائع کریں مگر یہ کبھی منظور نہیں ہوا۔ کلارکسن کہتی ہیں کہ برطانوی حکومت کو اسے ‘زیادہ سنجیدگی’ سے دیکھنا چاہیے اور ناروے کی طرح کا قانون متعارف کروانا چاہیے۔ ‘اس حوالے سے تمام اشارے موجود ہیں کہ ذہنی صحت کے مسائل، اینگزائٹی اور خوراک کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔’

برطانوی حکومت کی ایک ترجمان نے بتایا کہ وہ ‘منصفانہ، ذمہ دار اور اخلاقی آن لائن تشہیر’ کو فروغ دینا چاہتے ہیں جو سب کے لیے فائدہ مند ہوں اور 2019 میں متعارف کروائے گئے آن لائن ایڈورٹائزنگ پروگرام پر گفت و شنید میں ایڈٹ شدہ تصاویر کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میں نے خود کو انسٹاگرام پر انتہائی مثبت ماحول میں پایا ہے مگر انٹرنیٹ کی بڑی اکثریت کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔’ ‘ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہمارا کچھ ضوابط پر متفق ہونا ضروری ہے اور میرا خیال ہے کہ ناروے کا قانون واقعی ایک اچھا آغاز ہے۔ ہم لوگوں کو ایڈٹنگ کرنے سے نہیں روک سکتے۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ مگر ہم انھیں کہہ سکتے ہیں کہ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ کو اس کا اعتراف کرنا ہوگا۔’

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.