انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

کچھ لوگ مجھے پنجرے میں بند کر دیتے ہیں اور پھر مجھے وہاں ناچنا پڑتا ہے اور ویڈیو بنا کر بہت سے افراد مجھے گندی؟ چونکا دینے والی رپورٹ

یہ لڑکیاں پارٹیز میں مخصوص آرکسٹرا بینڈ میں ناچتی ہیں اور گاتی ہیں لیکن پرفارمنس کے دوران انھیں اکثر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے

کچھ لوگ مجھے پنجرے میں بند کر دیتے ہیں اور پھر مجھے وہاں ناچنا پڑتا ہے اور ویڈیو بنا کر بہت سے افراد مجھے گندی؟ چونکا دینے والی رپورٹ آگئی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابقان خواتین میں سے ایک عورت اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے رونے لگتی ہیں۔ ان کا چہرہ آنسوں سے بھیگ جاتا ہے اور مسکارا ان کے رخساروں سے نیچے آ گیا۔ بالوں میں بھورے رنگ کا احساس ہوتا ہے۔ انھوں نے نیلے رنگ کا کرتا اور ستاروں والی شلوار پہن رکھی ہے اور ان کے ہاتھ میں سنہرے رنگ کا پرس ہے۔ آنکھیں بڑی ہیں اور بائیں ہاتھ پر تتلی کا ٹیٹو ہے۔ نام دیویہ ہے لیکن یہ اصل نام نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں اداکارہ دیویا بھارتی (اب اس دنیا میں نہیں)بہت پسند ہیں۔ وہ ان کی طرح بننا چاہتی تھیں۔ اسی لیے انھوں نے اپنا نام دیویا رکھا لیکن زندگی آسان نہیں۔ دیویا کو شراب کے نشے میں دھت مردوں کے بیچ ناچنا پڑتا ہے۔ یہ لوگ ان خواتین رقاصاں کی چھاتی پکڑ لیتے ہیں۔ ان پر پتھر پھینکتے ہیں، یہاں تک کہ ان پر بندوقیں بھی تان لیتے ہیں۔

ایک عورت جو اپنی عمر کی تیسری دہائی کے اواخر میں ہے ان لڑکیوں کا تعارف کرواتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ لڑکیاں بہار کے کچھ علاقوں کی بعض شادیوں یا پارٹیز میں مخصوص آرکسٹرا بینڈ میں ناچتی ہیں اور گاتی ہیں لیکن پرفارمنس کے دوران انھیں اکثر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انھیں زبردستی چھوا جاتا ہے۔ ان کی چھاتی پکڑ لی جاتی ہے اور کبھی کبھی ان کا ریپ بھی ہو جاتا ہے۔ شادیوں کی اس قسم کی تقاریب میں فائرنگ عام بات ہے۔ اکثر اس قسم کی فائرنگ میں ان لڑکیوں کی ہلاکت کی بھی خبریں آتی ہیں۔ 24 جون کو بہار کے نالندہ ضلع میں شادی کی ایسی ہی ایک تقریب میں فائرنگ سے سواتی نامی ایک لڑکی کی موت ہو گئی۔ گولی اس کے سر میں لگی۔ ایک مرد ڈانسر کو بھی گولی لگی۔

لڑکیوں کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا نے انھیں مزید خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام ملنا مشکل ہو گیا ہے۔ مکان کا کرایہ ادا کرنے اور گھر خرچ چلانے کا مسئلہ درپیش ہے۔ آرکیسٹرا بینڈ میں گانے والی ریکھا ورما کا کہنا ہے کہ کچھ کو تو جسم فروشی کے کام کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ ریکھا راشٹریہ کلاکار مہاسنگھ یعنی نیشنل آرٹسٹ فیڈریشن کی صدر ہیں۔ انھوں نے آرکسٹرا میں کام کرنے والے مرد اور خواتین فنکاروں کے حقوق کے لیے سنہ 2018 میں اس تنظیم کی بنیاد ڈالی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.