انٹرنیشنل

صحافی جمال خاشقجی کا قتل، امریکا اچانک سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان پر مہربان کیوں ہونے لگا؟ چونکا دینے والی حقیقت بے نقاب ہو گئی

بائیڈن انتظامیہ نے محمد بن سلمان کے چھوٹے بھائی اور سعودی نائب وزیرِ دفاع کا ملک میں آمد پر سرخ قالین بچھا کر استقبال کیا

صحافی جمال خاشقجی کا قتل، امریکا اچانک سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان پر مہربان کیوں ہونے لگا؟ چونکا دینے والی حقیقت بے نقاب ہو گئی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق صدارت کا منصب سنبھالنے سے پہلے جو بائیڈن نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل میں سعودی عرب کے ملوث ہونے پر اسے ‘خارج شدہ’ ملک قرار دیا۔ بطور صدر رواں برس فروری میں ان کی انتظامیہ نے امریکی خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں سعودی ولی عہد کے اس قتل میں ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ ایم بی ایس کے نام سے جانے جانے والے سعودی ولی عہد نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے چھ ماہ بعد بائیڈن انتظامیہ نے محمد بن سلمان کے چھوٹے بھائی اور سعودی نائب وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کا ملک میں آمد پر سرخ قالین بچھا کر استقبال کیا ہے۔ یہ اکتوبر سنہ 2018 میں خاشقجی قتل کے بعد سے کسی اعلی منصب پر فائض سعودی حکومتی اہلکار کا امریکہ کا پہلا دورہ ہے۔

لندن کے تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ میں ایسوسی ایٹ فیلو مائیکل سٹیفنز اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘سعودی حکومت نے محمد بن سلمان اور سعودی عرب کے امیج کو بہتر بنانے کی ٹھوس کوششیں کی ہیں۔’ وہ بتاتے ہیں کہ ‘سعودی حکومت کی جانب سے معاشی مواقعوں پر توجہ دی جا رہی ہے جبکہ اس سے قبل خطے کی سکیورٹی سے متعلق جس بیانیے کو ہوا دی جا رہی تھی وہ اب کمزور پڑ رہا ہے۔ ہرگز نہیں اور خاص کر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے خاشقجی قتل کے حوالے سے مکمل اور آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کیا جاتا رہے گا، جس میں سعودی عرب کے سب سے طاقتور شخص محمد بن سلمان کو بھی حصہ بنایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.