انٹرنیشنل

بھارت نے اپنی ایک ریاست میں دو سے زائد بچے پیدا کرنے پر پابندی لگا دی لیکن اس کی وجہ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش نے آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے ایک متنازع بل پیش کیا ہے

بھارت نے اپنی ایک ریاست میں دو سے زائد بچے پیدا کرنے پر پابندی لگا دی لیکن اس کی وجہ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش نے آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے ایک متنازع بل پیش کیا ہے۔ اس کے تحت اگر کسی کے دو سے زیادہ بچے ہوئے تو اس شخص کے لیے سرکاری ملازمتوں، ترقی، سبسڈی اور بلدیاتی انتخابات لڑنے کے حق سے محروم رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اتر پردیش کی آبادی 22 کروڑ ہے اور طویل عرصے سے یہاں حکمرانی کا چیلنج رہا ہے اور ترقیاتی عشاریوں میں یہ مسلسل نچلے درجوں پر رہا ہے لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ انڈیا کی طرح اس کی آبادی میں بھی اضافے کی رفتار پہلے سے ہی سست ہے۔ ماہرین نے ‘زبردستی’ دو بچوں کی پالیسی کے خلاف متنبہ کیا ہے جو خواتین کے بااختیار ہونے کی نفی کرتی ہے اور اس سے بیٹوں کی شدید خواہش میں غیر محفوظ یا جنسی انتخاب سے متعلق اسقاط حمل میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ریاستی لا کمیشن کے تیار کردہ اس بل سے وہ حیران و پریشان ہیں کیونکہ یہ اتر پردیش (یوپی) کی آبادی کنٹرول کی پالیسی سے متصادم ہے جو کہ اتوار کو ہی جاری کی گئی ہے۔ انڈیا کی پاپولیشن فانڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پونم مٹریجا نے کہا: ‘یہ بل آبادی کی ایک بہت وسیع پالیسی کے منافی ہے جس میں نوجوانوں کی جنسی اور تولیدی صحت، بچوں اور زچگی، شرح اموات، اور عمر رسیدہ کے مسائل سمیت بہت سے معاملات شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا واقعتا نہیں ہے۔ سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا کی آبادی میں بہت زیادہ اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔ بیشتر ریاستوں میں خواتین پہلے سے کہیں کم بچے پیدا کر رہی ہیں جس سے مثر طریقے سے شرح پیدائش میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ پونم مٹریجا نے کہا کہ یو پی کو 18 فیصد مانع حمل کی ضرورت ہے۔ خواتین کو مزید کمزور بنانے کے بجائے ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ انھیں مانع حمل کی بیشتر سہولیات فراہم ہوں۔ حکومت کے ایک تخمینے کے مطابق یو پی میں بچوں کی پیدائش کی شرح سنہ 2025 تک کم ہو کر 2.1 فیصد ہو جائے گی۔ اس سے قبل یہ سنہ 1993 میں 4.82 سے کم ہو کر 2016 میں 2.7 ہو گئی تھی۔

مسز مٹریجا نے کہا کہ گرتی ہوئی شرح کو دیکھتے ہوئے ‘نسبندی کو فروغ دینا نقصان دہ ہو گا کیونکہ ‘انڈیا کی آبادی میں 70 فیصد اضافہ نوجوانوں کی طرف سے ہونا ہے۔ لہذا ہمیں غیر مستقل اور (بچوں کے درمیان)فاصلہ رکھنے والے طریقوں کی ضرورت ہے۔’ بچوں کی پیدائش کی شرح، بدلا کی سطح سے نیچے چلی گئی ہے جو کہ ملکی سطح پر فی عورت 2.1 پیدائش رکھی گئی ہے اور انڈیا کی 22 ریاستوں اور وفاق کے زیر انتظام علاقوں میں سے 19 کے تازہ ترین قومی خاندانی صحت سروے (این ایف ایچ ایس)کے اعداد و شمار ایسا ہی بتاتے ہیں۔ اتر پردیش سمیت بقیہ نو ریاستوں کے اعداد و شمار ابھی تک تیار نہیں ہیں۔ بڑھتی ہوئی آگاہی، سرکاری پروگرام، شہریت، اوپر کی جانب حرکت اور مانع حمل کے جدید طریقوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.