انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

مودی سرکار کا مسلمانوں کو بدنام کرنے کا ایک اور گھناؤنا منصوبہ بے نقاب، ہندو لڑکیوں سے شادی کر کے انہیں سعودی عرب فروخت کرنے کا الزام لگا دیا

ہندو لڑکی نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے کہ انھیں ایک مسلمان لڑکے سے شادی کے فیصلے کے بعد سے دھمکی آمیز فون کالز موصول ہو رہی ہیں

مودی سرکار کا مسلمانوں کو بدنام کرنے کا ایک اور گھناؤنا منصوبہ بے نقاب، ہندو لڑکیوں سے شادی کر کے انہیں سعودی عرب فروخت کرنے کا الزام لگا دیا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق ممبئی کی ایک ہندو لڑکی نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے کہ انھیں ایک مسلمان لڑکے سے شادی کے فیصلے کے بعد سے دھمکی آمیز فون کالز موصول ہو رہی ہیں۔ لڑکی کے مطابق دھمکی آمیز فون کالز کی وجہ سے ان کا پورا خاندان ذہنی دبا کا شکار ہے۔31 برس کی سناینہ (نام تبدیل کیا گیا ہے)نے بتایا کہ مجھے اور میرے خاندان کے افراد کو دھمکی آمیز کالز موصول ہو رہی ہیں، نامعلوم افراد کے خطوط آ رہے ہیں اور میرے والد کو ورغلایا جا رہا ہے۔ یہ بتاتے ہوئے سناینہ کی آواز میں خوف واضح تھا۔ سناینہ کے مطابق وہ یہ شادی اپنی مرضی سے کر رہی ہیں لیکن کچھ لوگ ان کی شادی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ممبئی حوالے سے ممبئی پولیس کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی کافی بحث شروع ہو گئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کی رہنما پریتی شرما مینن نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: یہ دھمکی آمیز ہے۔ ہندو نواز غنڈے ایک عورت کی بین المذہبی شادی کی درخواست پر دھمکیاں دے رہے ہیں۔

سناینہ کے مطابق خط میں ان کے والد کو خبردار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سناینہ نے شادی رجسٹریشن کے دفتر فون کیا جہاں سے انھیں بتایا گیا کہ جب آپ خصوصی شادی ایکٹ کے تحت اندراج کرتے ہیں تو اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں لہذا ان پر توجہ نہ دیں۔ سناینہ نے کہا کہ ہم شادی کی درخواست دینے کے بعد اس واقعے کو بھول گئے۔ میرے والد نے میرے ہونے والے شوہر سے ملاقات کی اور انھیں بھی وہ پسند آئے لیکن منگل 13 جولائی کو جب میں نے گھر کا دروازہ کھولا تو میں نے دیکھا کہ تین افراد مجھے مسلمان لڑکے سے شادی نہ کرنے پر راضی کرنے آئے تھے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ میرے والد سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے انھیں واپس جانے کے لیے کہا لیکن وہ جانے کو تیار نہیں تھے۔ وہ کہتی ہیں میں 31 برس کی ہوں، میں بالغ ہوں، اپنے فیصلے خود کر سکتی ہوں تو ایسی صورتحال میں کون مجھے دھمکا سکتا ہے کہ مجھے کس سے شادی کرنا ہے۔

پریتی سوال کرتی ہیں کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ (دھمکی دینے والوں کو)اس لڑکی کے بارے میں معلومات کہاں سے حاصل ہوئی ہیں۔ سناینہ نے 14 جون کو ممبئی کے کھار علاقے میں میرج رجسٹریشن آفس میں خصوصی شادی ایکٹ کے تحت شادی کے لیے اپنی درخواست جمع کروائی تھی۔ سناینہ کے مطابق درخواست جمع کروانے کے اگلے ہی دن ان کے گھر پر دھمکی آمیز فون کالز اور خطوط آنے شروع ہو گئے۔ سناینہ نے بتایا کہ اس درخواست کے اگلے ہی دن یعنی 15 جون کو میرے والد کو ایک گمنام خط بھی موصول ہوا، جس میں لکھا تھا کہ آپ کی بیٹی اس تاریخ کو ایک مسلمان لڑکے سے شادی کرنے جا رہی ہے، اس بارے میں معلوم کریں۔ سناینہ نے بتایا کہ یہ خط میراٹھی میں لکھا گیا تھا اور خط بھیجنے والے کے پاس ان کے بارے میں مکمل معلومات تھیں۔ لکھا تھا کہ مسلمان لڑکے ہندو لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں اور انھیں سعودی عرب میں فروخت کر دیتے ہیں۔ ابھی وقت ہے، آپ اپنی بچی کو بچا سکتے ہیں۔

سناینہ نے مزید بتایا ہمیں گجرات اور کولکتہ میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں کی طرف سے بھی فون آ رہے ہیں۔ جو لوگ میری شادی کی مخالفت کر رہے ہیں، انھوں نے ہمارے بہت سے جاننے والوں کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا ہے۔ میرے والد کو سمجھایا جا رہا ہے کہ بیٹی کو گھر سے نکال دیا جائے۔ میرے والد سکیولر ذہن کے مالک ہیں۔ انھوں نے میری شادی کی مخالفت نہیں کی لیکن اس واقعے کے بعد وہ بہت خوفزدہ ہو گئے ہیں۔ اب سناینہ کو بھی فکر ہے کہ ان کی شادی کا کیا بنے گا۔ انھوں نے کہا میرے والدین بہت خوفزدہ ہیں، ان کی صحت بگڑ رہی ہے۔ ان پر بہت دبا ہے۔

ممبئی کے کھار پولیس سٹیشن میں دی جانے والی اپنی شکایت پر سناینہ نے کہا میں نے پولیس کو مکمل معلومات دی ہیں، میرے گھر آنے والے لوگوں کے بارے میں شکایت کی ہے، میرے والدین بھی پریشان ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آگے کیا ہو گا؟ میں شادی کیسے کروں گی؟ ممبئی میں کام کرنے والی تنظیم رائٹ ٹو لو کی دیپتی نتن ویئر کے مطابق خصوصی شادی ایکٹ کے تحت دی گئی درخواستوں کو عام نہیں کیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.