انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

افغانستان : مقامی طاقتیں آخراب جنگ کیوں لڑرہی ہیں؟

افغانستان سےتعلق رکھنےوالی مقامی طاقتیں آخراب جنگ کیوں لڑرہی ہیں؟ان کےمقاصد کیا ہیں؟ اہم رازسےپردہ اُٹھ گیا

افغانستان سےتعلق رکھنےوالی مقامی طاقتیں آخراب جنگ کیوں لڑرہی ہیں؟ان کےمقاصد کیا ہیں؟ اہم رازسےپردہ اُٹھ گیا، افغان امورکے ماہرین کی اکثریت اس پرمتفق نظرآتی ہےکہ افغانستان میں چارعشروں سےجاری تنازع علاقائی اورعالمی قوتوں کےمفادات کا جھگڑا ہے۔ چارعشروں بعد خطےمیں روس کا اثرورسوخ امریکہ سےکہیں زیادہ ہےجواب افغانستان سےاپنی فوجوں کونکال رہا ہے۔ جنگ زدہ افغانستان میں اب روس کےلیےایک بڑا کردارمنتظرہے۔ لیکن روسی حکام اورروس کےسرکاری میڈیا پرایسےخیالات کا اظہارکیا جا رہا ہے کہ افغانستان کی بدلتی صورتحال روس کےلیےایک موقع نہیں بلکہ ایک مسئلہ ہے۔

اب جب امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا تقریباً مکمل ہو چکا ہے پاکستان کو اپنے جنگ زدہ پڑوسی کے حوالے سے پریشانیاں لاحق ہیں۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ افغانستان میں پائیدار سیاسی حل کے بغیر وہاں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے جس سے اسے مہاجرین کی آمد اور سرحد پار سے حملوں جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

انڈیا ہمیشہ سے جمہوری افغانستان کا حامی رہا ہے لیکن انڈیا کو افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال میں بدامنی پھیلنے کے امکانات کا اچھی طرح اندازہ ہے۔ انڈیا کو ڈر ہے کہ افغانستان صورتحال کے بگڑنے سے افغانستان ایک بار جنگجوؤں کی آماجگاہ بن سکتا ہے۔ انڈیا کو افغانستان میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں میں پاکستان کے کردار پر بھی تشویش لاحق ہے۔

امریکی افواج کے افغانستان سے نکلنے کے بعد افغانستان میں پیدا ہونے والے خلا کے باوجود چین سمجھتا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کا خاتمہ کثیرالجہتی طریقہ کار میں ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے اپنے شہریوں کو افغانستان سے جلد از جلد نکلنے کی ہدایات سے حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

کچھ غیر ملکی میڈیا میں وقتا فوقتاً ایسی رپورٹس شائع ہوتی رہتی ہیں جن میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ چین افغانستان میں پیدا ہونے والے خلا سے فائدہ اٹھا کر وہاں کوئی براہ راست رول کی تلاش میں ہے لیکن چین کے ذرائع ابلاغ کے مطالعے سے ابھرنے والا تاثر اس کے برعکس ہے۔ چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق چین آج بھی سمجھتا ہے کہ افعانستان کے مسئلے کا حل کثر الجہتی طریقہ کار میں ہے۔

اب جب سنّی طالبان ایک بار افغانستان کی ایک بڑی طاقت بن کر ابھر رہے ہیں شیعہ ایران کا کردار بھی سامنے آ رہا ہے۔ طالبان کو ہمیشہ شیعہ مسلک سے مسائل رہے ہیں جن کا ایران کبھی کبھار محافظ بھی بن جاتا ہے، اسی وجہ سے ایران اور طالبان کے تعلقات پر ہمیشہ ایک سوالیہ نشان رہے گا۔ لیکن طالبان اور ایران کے موجودہ تعلقات کی بنیاد سلامتی اور عملی مفادات پر ہے۔

حالیہ مہینوں میں ترکش ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ امریکہ نے ترکی سے کہا ہے مغربی ممالک کی افواج کے افغانستان سے نکلنے کے بعد ترکی کابل کے ہوائی اڈہ کھلا رکھنے کی ذمہ داری سنبھالے۔

صدر طیب اردوغان نے نو جولائی کو کہا تھا کہ ترکی نے افغانستان میں اپنے کردار کا تعین کر لیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ کابل ائیرپورٹ کو کھلا رہنا چاہیے اور اگر ایسا نہ ہوا تو تمام ممالک وہاں اپنے سفارت خانے بند کر دیں گے۔

لیکن طالبان نے 12 جولائی کو خبردار کیا کہ ترکی کی افواج کی افغانستان میں موجودگی افغانستان کی علاقائی سلامتی اور اس کی حاکمیت کی خلاف ورزی تصور ہو گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.