انٹرنیشنل

عرب دنیا کے کن ممالک کی شہزادیوں کی جاسوسی کی جاتی ہے؟ اس دھندے میں کون کون ملوث ہے؟ دنیا بھر میں ہنگامہ برپا کر دینے والی خبر

شہزادی لطیفہ اور شہزادی حیا بنت الحسین کے نمبر 'پرسن آف انٹرسٹ' یعنی اہمیت رکھنے والی شخصیت کے طور پر منتخب کیے گئے تھے

عرب دنیا کے کن ممالک کی شہزادیوں کی جاسوسی کی جاتی ہے؟ اس دھندے میں کون کون ملوث ہے؟ دنیا بھر میں ہنگامہ برپا کر دینے والی خبر آگئی۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فرانسیسی میڈیا گروپ ‘فوربڈن سٹوریز’ کو جن 50 ہزار نمبروں پر مشتمل ریکارڈ تک رسائی ملی ہے اس فہرست میں دبئی کی دو شہزادیوں کے زیرِ استعمال رہنے والے فون نمبر بھی شامل ہیں۔ شہزادی لطیفہ اور شہزادی حیا بنت الحسین کے نمبر ‘پرسن آف انٹرسٹ’ یعنی اہمیت رکھنے والی شخصیت کے طور پر منتخب کیے گئے تھے۔ شہزادی لطیفہ دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی بیٹی ہیں اور شہزادی حیا بنت الحسین ان کی سابقہ اہلیہ ہیں۔ شیخ محمد بن راشد المکتوم، دنیا کے امیر ترین حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ وہ دبئی کے حکمران ہونے کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے نائب صدر بھی ہیں۔ واضح رہے کہ اس فہرست میں نمبر موجود ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس شخص کو پیگاسس کے ذریعہ ہیک کیا گیا ہو یا ہیک کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ یہ فہرست ان افراد کا تعین کرتی نظر آتی ہے جن کو ‘پرسن آف انٹرسٹ’ کے طور پر منتخب کیا گیا ہو۔

انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فرانسیسی میڈیا گروپ فوربڈن سٹوریز کو جن 50 ہزار نمبروں پر مشتمل ریکارڈ تک رسائی ملی ہے اس فہرست میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان، فرانسیسی وزیر اعظم ایمینوئل میکخواں، مراکش کے بادشاہ شاہ محمد ششم سمیت دنیا بھر کے 14 حکمرانوں کے نمبر شامل ہیں۔ تاہم اس فہرست میں شامل افراد میں سے چند کے موبائل فونز کا تجزیہ کیا گیا تو اس سے معلوم ہوا کہ انھیں بعد میں پیگاسس کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ فروری کے وسط میں بی بی سی پینورما نے شہزادی لطیفہ کی ایک خفیہ ویڈیو نشر کی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ انھیں یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے اور انھوں نے اپنی زندگی کو لاحق خطرات کا بھی ذکر کیا تھا۔ اسی دوران شہزادی حیا 2019 میں یہ کہتے ہوئے دبئی سے فرار ہوگئی تھیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ان دونوں خواتین کے الزامات کی تردید کی تھی۔ ان دونوں کے نمبر بظاہر ان 50 ہزار افراد کے فون نمبروں کی فہرست میں شامل ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھیں اسرائیلی نجی کمپنی این ایس او کے جاسوسی کے سافٹ ویئر ‘پیگاسس’ کو استعمال کرتے ہوئے نگرانی اور جاسوسی کا ہدف بنایا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.