انٹرنیشنل

جھاڑو دینے کے کام سے لیکر ڈپٹی کلکٹر بننے والی آشا کی سبق آموز حقیقت کیا تھی؟ سب کچھ کھل کر سامنے آگیا

اب آشا اس ریاست میں ڈپٹی کلکٹربن چکی، انڈیا میں ڈی سی کسی ریاستی سب ڈویژن میں ٹیکس اور انتظامی ذمہ داریوں پر مامور ہوتا ہے

جھاڑو دینے کے کام سے لیکر ڈپٹی کلکٹر بننے والی آشا کی سبق آموز حقیقت کیا تھی؟ سب کچھ کھل کر سامنے آگیا۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا یہ کہنا ہے آشا کنڈرا کا جنھوں نے انتھک محنت اور لگن سے یہ بات سچ کر دکھائی اور خود اس کی ایک زندہ مثال بن گئیں ہیں۔ چالیس سالہ آشا کنڈرا کا تعلق انڈیا کی ریاست راجستھان کے شہر جودھ پور سے ہے۔ ریاست کی انتظامی سروس کے امتحان میں انھوں نے 728ویں پوزیشن حاصل کی ہے۔

ان کی محنت رنگ لائی اور انھوں نے ایڈمنِسٹریٹیو سروس میں میئر کا امتحان پاس کر لیا۔ اس سے انھیں حوصلہ ملا کہ وہ اب انٹرویو بھی پاس کر لیں گی اور ایسا ہی ہوا۔ آشا نے ابھی تک میونسپل کارپوریشن کی ملازمت سے استعفی نہیں دیا ہے اور انھیں یقین ہے کہ اگر وہ کامیاب ہو سکتی ہیں تو کوئی بھی لڑکی ایسی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ جودھ پور میونسپل کارپوریشن کی میئر ونیتا سیٹھ کا کہنا ہے کہ آشا کو دیکھنے کے بعد بہت سے لوگوں کو حوصلہ ملا ہے۔ ان کا کہنا ہے جب وہ ایک صفائی کرنے والی ملازمہ کی حیثیت سے کام کرتی تھیں تو ڈیوٹی کے بعد گھر جا کر گھریلو کام کرنا اور پھر امتحان کی تیاری کرنا بہت مشکل تھا۔ محلے کے بہت سارے لوگ یہی سوچتے ہیں کہ وہ عورت صبح سے ہی باہر گئی ہوئی ہے لوگ عورت پر انگلی اٹھانے سے گریز نہیں کرتے لیکن آشا نے سب کا منھ بند کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جدوجہد کرنے کے بعد ایک مقام کو حاصل کرنا کسی بھی عورت کے لیے بہت بڑی بات ہے اور یہ ان خواتین کے لیے بھی روشنی کی ایک کرن کی مانند ہے جو صرف چولہا اور گھر کی چاردیواری کو اپنا مقدر سمجھ کر اپنی زندگی گزار دیتی ہیں۔ اب آشا اس ریاست میں ڈپٹی کلکٹر (ڈی سی)بن چکی ہیں۔ انڈیا میں ڈی سی کسی ریاستی سب ڈویژن میں ٹیکس اور انتظامی ذمہ داریوں پر مامور ہوتا ہے۔

آشا کو بچوں کی دیکھ بھال کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ بچوں کی دیکھ بھال اور گھریلو اخراجات کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی لہذا میرے لیے یہ کام بہت ضروری تھا۔ آشا کا کہنا ہے میں نے جھاڑو پوچا کرنے کے کام کو کبھی بھی چھوٹا نہیں سمجھا ہے۔’ اب ان کے پاس میونسپل کارپوریشن میں خاکروب کی نوکری تھی لیکن ریاست کے انتظامی سروس کے لیے دوسرے مرحلے کا نتیجہ ابھی نہیں آیا تھا۔ آشا کہتی ہیں کہ صبح چھ بجے گھر سے نکلنا اور صفائی کے بعد واپس آنا بہت مشکل تھا۔ کام کے بعد پڑھنا اور گھر کے کام کاج کرنا ذہنی اور جسمانی طور پر تھکا دیتا تھا۔ لیکن اپنے گھر والوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ میں سخت محنت کرتی رہی حالانکہ گھر والے کہا کرتے تھے کہ اب تم آرام کرو لیکن میں نے اپنے جسم کو اس طرح ڈھال لیا کہ میں بہت کم سویا کرتی تھی اور رات دیر تک پڑھائی کرتی اور صبح سویرے کام پر نکل جاتی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.