انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

طالبان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد افغانستان میں کیا ہو رہا ہے؟ خواتین کیسے زندگی گزار رہی ہیں؟ خوف و ہراس میں مبتلا افغان خاتون نے خاموشی توڑ دی

خوف نے مجھے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے اور میں محسوس کر سکتی ہوں کہ کیسے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے اندر موجود امیدیں دم توڑ رہی ہیں

طالبان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد افغانستان میں کیا ہو رہا ہے؟ خواتین کیسے زندگی گزار رہی ہیں؟ خوف و ہراس میں مبتلا افغان خاتون نے خاموشی توڑ دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک نوجوان افغان لڑکی نے مستقبل کے حوالے سے اپنے خوف اور خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حفاظت کے پیشِ نظر ہم یہاں ان کی شناخت ظاہر نہیں کر رہے ہیں۔ افغان حکومت کے خاتمے کے بعد آج یہ ساتواں دن ہے۔ صدر (اشرف غنی)ملک سے فرار ہو گئے ہیں اور طالبان ایک بار پھر اقتدار میں ہیں۔ ہمیں پیچھے اپنے ملک میں رہنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔۔۔ خوف نے مجھے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے اور میں محسوس کر سکتی ہوں کہ کیسے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے اندر موجود امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ امید کی جگہ اب مایوسی نے لے لی ہے۔ میں ہر جانب اندھیرا، غیر یقینی اور ایک ایسا مستقبل دیکھ رہی ہوں جو زیادہ روشن نہیں ہے۔ میں یقینی طور پر قتل کر دی جاں گی، اور یہ کہنے کے لیے میرے پاس بہت سی وجوہات ہیں۔۔۔ بالکل ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جب ایسے افراد آپ کے ملک پر قابض ہو جائیں جن سے آپ کو ڈر لگتا ہو۔

سوچیے، تصور کیجیے آپ ایک لمبی سڑک پر ہیں جس کا کوئی اختتام نہیں، موسم خراب ہے اور آپ تن تنہا ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سی رکاوٹیں دیکھی ہیں، اتنی کہ شاید کوئی اور لڑکی انھیں برداشت نہ کر پائے۔ میں ان تمام مشکلات سے نمٹی ہوں مگر یہ سب۔۔۔۔ اے دنیا والو کیا تمھیں اس کا خیال ہے کہ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ کیا تمھارے نزدیک ہماری کوئی اہمیت ہے۔ کیا تم ہمیں دیکھ رہے ہو؟ دیکھ رہے ہو۔۔۔

میں یہ سب ان کے لیے لکھ رہی ہوں جو جو سن رہے ہیں اور جنھیں ہمارا خیال ہے۔ ہم یہاں تکلیف میں مبتلا ہیں، ہمیں پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ خوف میں رہنا مرنے سے کچھ کم نہیں، بلکہ یہ اس سے بھی بدتر ہے۔ اگر آپ ہمیں سن رہے ہیں تو ہماری مدد کیجیے۔ ہمیں زندہ رہنے میں مدد کریں، اور ایک بار پھر روشنی میں اور دوبارہ اٹھ جانے میں یقین رکھیں، پہلے سے زیادہ مضبوط ہونے پر یقین رکھیں۔ ہم اپنے ملک کو واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ ویسی زندگی بسر کریں جیسی وہ بسر کرنا چاہتے ہیں، جیسی زندگی بسر کرنا ان کا حق ہے۔

آپ اپنے اپنے ملک کو بتائیں کہ جنگ بند کریں، جنگ بری شے ہے، اس کا چہرہ گندا ہے، اس میں کوئی نہیں جیتتا۔ دل اسے برداشت کرنے اور اس کے نتائج کو جھیلنے کے لیے بہت چھوٹی چیز ہے۔ ہم جنگ کا ثمر ہیں۔۔۔ کچھ لڑکیاں اسی غیر یقینی صورتحال میں رہتے رہتے کہیں گم ہو چکی ہیں۔۔۔ خوف میں اور اندیشوں میں۔۔۔ وہ زندہ رہنے کے لیے کسی سے مدد چاہتی ہیں۔ وہ اپنے خاندانوں کی طرف دیکھ رہی ہیں اور کچھ نہ کر سکنے پر رو رہی ہیں۔ وہ آسمان کی جانب دیکھ رہی ہیں اور اس سے (خدا سے)کہہ رہی ہیں کیا تم دیکھ رہے ہو؟ کیا تم ہماری مدد کرو گے؟ کیا مجھے امید رکھنی چاہیے تھوڑی سی امید۔۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.