انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

سات سال سے برسر اقتدار میں رہنے والے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی مقبولیت میں کمی کیوں آ رہی ہے؟ انٹرنیشنل رپورٹ نے سب کو ہلا کر رکھ دیا

مودی کے حمایتی ان کو ان کی بڑی غلطیوں پر معاف بھی کرتے رہے ہیں جس میں سنہ 2016 میں بڑے کرنسی نوٹوں کے خاتمے کا معاملہ بھی تھا

سات سال سے برسر اقتدار میں رہنے والے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی مقبولیت میں کمی کیوں آ رہی ہے؟ انٹرنیشنل رپورٹ نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

انٹرنیشنل رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انڈین ووٹرز کے ساتھ ایک طویل ہنی مون گزار لیا ہے۔ اس دوران دولت سے مالا مال اور بہترین تنظیمی ڈھانچے والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)بھی ان کی پشت پر کھڑی رہی ہے۔ انھوں نے اس دوران قوم پرست ہندو حمایتیوں کا ایک گروہ بنا لیا ہے جو کڑے سے کڑے وقت میں بھی ان کی حمایت کرتا ہے۔ ووٹرز کو اپنی ساتھ جوڑے رکھنے اور مخالفین کے خلاف چالیں چلنے میں انھوں نے کمال چالاکی کا مظاہرہ کیا ہے۔

یہ بھی سچ ہے کہ قسمت نے بھی نریندر مودی کا ہی ساتھ دیا ہے۔ ان کے حمایتی ان کو ان کی بڑی غلطیوں پر معاف بھی کرتے رہے ہیں جس میں سنہ 2016 میں بڑے کرنسی نوٹوں کے خاتمے کا معاملہ بھی تھا۔ انڈیا میں کووڈ 19 کی پہلی لہر کے بعد معیشت کی بری کارکردگی کے باوجود ان کی حمایت میں کمی آتی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ساتھ ہی مضبوط حزبِ مخالف کی عدم موجودگی بھی ان کی طاقت میں اضافے کا سبب بنی ہے۔ جولائی میں انڈیا ٹوڈے میگزین کی جانب سے کی گئی رائے شماری میں 14 ہزار سے زیادہ افرد شریک ہوئے اور ان میں سے صرف 24 فیصد افراد کا یہ ماننا تھا کہ 70 سالہ نریندر مودی کو ہی انڈیا کا اگلا وزیرِاعظم ہونا چاہیے۔ انڈیا میں آئندہ عام انتخابات سنہ 2024 میں منعقد ہوں گے۔ گذشتہ برس اسی قسم کی ایک رائے شماری کی نسبت نریندر مودی کی مقبولیت میں 42 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔ یوگندرا یادو جو اس سے قبل بھی رائے شماری منعقد کروا چکے ہیں اب ایک سیاستدان ہیں اور نریندر مودی کے ناقدین میں سے ایک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے پورے کریئر میں کسی وزیرِ اعظم کی مقبولیت میں اتنی تیزی سے کمی آتی نہیں دیکھی۔

سنہ 2021 نریندر مودی کے لیے خاصا کٹھن ثابت ہوا ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر میں ہزاروں افراد کی اموات کے بعد ان کی ساکھ کو عالمی تنقید کی باعث بہت نقصان پہنچا ہے۔ اس وقت معیشت بحران کا شکار ہے، مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، ایندھن کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور روزگار کے مواقعوں اور کھپت میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس حوالے سے رائے شماری میں بداعتمادی اور لوگوں کی پریشانیوں کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ رائے شماری کے مطابق تقریبا 70 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ عالمی وبا کے دوران ان کی آمدن میں کمی واقع ہوئی ہے اور اتنے ہی فیصد افراد یہ بھی مانتے ہیں کہ سرکاری طور پر بتائے گئے اعداد وشمار کے برعکس کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد چار لاکھ 30 ہزار سے کہیں زیادہ ہے تاہم 36 فیصد افراد نے نریندر مودی کی جانب سے عالمی وبا سے متعلق فیصلہ سازی کو اچھا قرار دیا ہے۔ صرف 13 فیصد کا خیال ہے کہ ان کی حکومت کو ہی لوگوں کی مشکلات کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ 44 فیصد یہ مانتے ہیں کہ وفاقی اور ریاستی حکومتوں نے کووڈ 19 کے خلاف مثر کام نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.