انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

افغان طالبان کا ذریعہ آمدن کیا ہے؟ ان کی سالانہ آمدن کتنی ہے؟ انٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد پوری دنیا میں تہلکہ مچ گیا

امریکی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران کئی ہزار طالبان ہلاک اور افغان جنگجوؤں کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی ہوا تھا

افغان طالبان کا ذریعہ آمدن کیا ہے؟ ان کی سالانہ آمدن کتنی ہے؟ انٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد پوری دنیا میں تہلکہ مچ گیا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا نے طالبان کی آمدنی کے ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں طالبان کے آمدن کے مختلف ذرائع بتائے گئے ہیں۔ امریکی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران کئی ہزار طالبان ہلاک ہوئے اور افغان جنگجوؤں کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی ہوا لیکن اس کے باوجود طالبان نے امریکا اور اس کی اتحادی فورسز کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکے۔

انٹرنیشنل میڈیا کی جانب سے اس تمام تر صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے طالبان کی آمدنی کے ذرائع معلوم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2011 ء سے 2017ء تک طالبان کی سالانہ آمدنی 400 ملین امریکی ڈالر تھی لیکن 2018 کے اختتام میں یہ 1.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی آمدن کے 4 ذرائع ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان اور امریکی حکام پاکستان سمیت ایران اور روس پر طالبان کی مالی معاونت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں تاہم تینوں ممالک نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا لیکن اس کے باوجود پاکستان اور خلیجی ممالک کے رہائشیوں کو طالبان کی مالی مدد کرنے والے اہم شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔غیر ملکی ماہرین کے مطابق طالبان کو افغانستان سے باہر سے تقریبا 500 ملین ڈالر کی سالانہ امداد ملتی ہے جب کہ امریکی انٹیلی جنس کا اندازہ ہے کہ 2008 میں افغان طالبان نے خلیجی ممالک سے 106 ملین ڈالر کی رقم وصول کی تھی۔ افغانستان افیون کی پیداوار کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور طالبان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے وہ افیون کے کاروبار سے بھی بڑی رقم حاصل کرتے رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق افغانستان سے سالانہ بنیاد پر تقریبا 1.5 سے 3 ارب امریکی ڈالر مالیت کی افیون بیرون ملک بر آمد کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں سابق امریکی کمانڈر نے 2018 میں کہا تھا کہ طالبان کی سالانہ مجموعی آمدنی میں غیر قانونی منشیات فروخت کرنے سے حاصل کی گئی کمائی کا 60 فیصد ہے جب کہ کچھ ماہرین اِن اعداد و شمار کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ طالبان نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں کچھ عرصے کے لیے منشیات کی کاشت پر پابندی عائد کی تھی جس پر وہ فخر محسوس کرتے ہیں اور اس بار بھی طالبان حکومت بنانے سے قبل اعلان کر چکے ہیں کہ ہم افغانستان سے منشیات پاک کر دیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.