انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

افغان ڈریمرز، نوعمر لڑکیوں کی روبوٹکس ٹیم طالبان سے بچ کر نکلنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟چونکا دینے والی رپورٹ منظر عام پر آگئی

طالبان کے قبضے کے بعد سے 'افغان ڈریمرز' کو ہزاروں افغان شہریوں کی طرح پابندیوں اور سختیوں کے خوف سے اپنا ملک چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑا

افغان ڈریمرز، نوعمر لڑکیوں کی روبوٹکس ٹیم طالبان سے بچ کر نکلنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟چونکا دینے والی رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق افغانستان کی ‘افغان ڈریمرز’ کبھی ملک میں خواتین کے لیے امید کی ایک کرن ہوا کرتی تھیں۔ یہ 13 سے 18 سال کی 20 نوعمر لڑکیوں کا ایک گروہ ہے جنھوں نے ایک ایسے ملک کی پہلی خاتون روبوٹکس ٹیم تشکیل دی جہاں سائنس کی ترقی کو کبھی بھی اہمیت نہیں دی جاتی تھی اور خواتین کے لیے مواقع اس سے بھی کم تھے۔ تاہم 15 اگست کو طالبان کے تیزی سے افغانستان پر قبضے نے ان کی تمام تر کامیابیوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ طالبان نے 1990 کی دہائی میں اپنے گذشتہ دورِ حکومت کے دوران خواتین کی تعلیم اور کام کرنے پر بہت پابندیاں عائد کی تھیں۔

افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سے ‘افغان ڈریمرز’ کی طرح ہزاروں افغان شہریوں کو طالبان کی جانب سے پابندیوں اور سختیوں کے خوف سے اپنا ملک چھوڑنے کا سخت فیصلہ کرنا پڑا اور دیگر ممالک میں جا کر پناہ لینی پڑی ہے۔ اسی طرح چھ ممالک اور افسرشاہی کا ایک سمندر عبور کر کے ‘افغان ڈریمرز’ روبوٹک ٹیم کی پانچ بانی اراکین: فاطمہ قدریان، لیڈا عزیزی، کوثر روشن، مریم روشن اور ساغر صالحی گذشتہ منگل میکسیکو میں عارضی پناہ لینے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ یہ لڑکیاں اس بڑے افغان پناہ گزین گروہ کا حصہ ہیں جو آنے والے دنوں میں میکسیکو اور دیگر لاطینی ممالک پہنچے گے۔ ان کے میکسیکو پہنچنے پر میکسیکو کے وزیر خارجہ مارسیلو ایبرارڈ نے ٹویٹ کیا کہ ‘خوش آمدید، یہ افغانستان کی روبوٹک ٹیم کا حصہ ہیں اور وہ صنفی برابری والی دنیا کے خواب کے لیے کوشاں ہیں۔

میکسیکو کی حکومت کے مطابق ان لڑکیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزہ دیا گیا ہے جو انھیں میکسیکو میں چھ ماہ تک رہنے کی اجازت دے گا اور اس میں ممکنہ توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ انھیں مختلف اداروں کی معاونت سے مفت رہائش اور کھانا دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام کو سراہاتے ہوئے انسانی حقوق کی گروہوں نے میکسیکو کی حکومت پر تنقید کی ہے کہ افغان لڑکیوں کا جس طرح سے پرتپاک استقبال کیا ہے اس کے مقابلے میں امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر جانے والے تارکین وطن کے ساتھ بہت برا سلوک کیا جاتا ہے اور اکثر ان تارکین وطن کو ملک میں داخلے کی اجازت نہ دیتے ہوئے ان کے آبائی ممالک میں واپس بھیج دیا جاتا ہے اور بہت سے افراد کو برے سلوک اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ ‘افغان ڈریمرز’ کو چار برس قبل ایک ٹیکنالوجی کپمنی کی مالک رویا محبوب نے قائم کیا تھا، جو ڈیجیٹل سٹیزن فنڈ چلاتی تھیں۔ یہ ایک امریکی غیر سرکاری تنظیم ہے جو ترقی پذیر ممالک کی خواتین اور لڑکیوں کو ٹیکنالوجی اور سائنس، انجینئرنگ، ریاضی، روبوٹکس جیسے مظامین تک رسائی میں مدد فراہم کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.