انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

طالبان قابض ہونے کے بعد افغانستان کی خواتین کرکٹ ٹیم میں لڑکیاں جو عالمی میدانوں میں کھیل رہی تھی اب کابل میں کیا کر رہی ہیں؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

کابل میں طالبان پہلے ہی افغانستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کو ڈھونڈتے پھر رہے ہیں وویمن کرکٹروں کیلئے یہ خواب شاید اب ادھورے ہی رہ جائیں گے

طالبان قابض ہونے کے بعد افغانستان کی خواتین کرکٹ ٹیم میں لڑکیاں جو عالمی میدانوں میں کھیل رہی تھی اب کابل میں کیا کر رہی ہیں؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق ایسل اور ان کی بین الاقوامی ٹیم کی ساتھی چھپی ہوئی ہیں۔ ایسل ان کا اصلی نام نہیں ہے۔ کابل میں طالبان پہلے ہی افغانستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کو ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ ایسل کہتی ہیں کہ اس وقت کوئی بھی خاتون کرکٹ یا کوئی اور کھیل اگر کھیل رہی ہے تو وہ محفوظ نہیں ہے۔ کابل میں صورتحال کافی بری ہے۔ وہ بتاتی ہیں ہمارا واٹس ایپ پر ایک گروپ ہے اور ہم ہر رات اس میں اپنے مسائل اور مستقبل کے پلان شیئر کرتے ہیں۔ اس وقت ہم سب ناامید ہیں۔ طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے بعد سے ایسل شاید ہی اپنے گھر سے نکلی ہوں اور انھوں نے اپنا کرکٹ کا سامان چھپا دیا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ کیسے ان کی ایک ساتھی کو بقول ان کے شہر میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایسل کہتی ہیں کہ جس گاں میں کرکٹ کھیلتی تھیں، وہاں پر کچھ لوگ طالبان کے ساتھ کام کرتے تھے اور جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو وہ لوگ آئے اور انھوں نے دھمکی دی کہ اگر تم لوگوں نے دوبارہ کرکٹ کھیلنے کی کوشش کی تو تمھیں مار دیں گے۔ ایک اور خاتون تقوی ہیں جو کہ ان کا فرضی نام ہے۔ وہ افغانستان میں خواتین کرکٹ سے کئی سالوں سے منسلک ہیں۔ کابل کے سقوط کے بعد وہ ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔ ملک سے نکلنے سے ہفتہ پہلے وہ بار بار کبھی کسی گھر میں تو کبھی کسی گھر میں چھپتی تھیں تاکہ طالبان کو ان کی لوکیشن پتا نہ چل سکے۔ طالبان نے ان کے والد کو بھی فون کیا تھا مگر والد نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ میری بیٹی کہاں ہے۔ وہ کہتی ہیں میں سوچنا بھی نہیں چاہتی کہ کیا ہو سکتا تھا۔ جب طالبان کابل آئے تو میں ایک ہفتے تک نہ سوئی نہ کچھ کھا سکی۔ میں صرف اپنے بارے میں نہیں سوچ رہی تھی۔ میں اپنی لڑکیوں کے بارے میں بھی سوچ رہی تھی۔ وہ اپنی زندگیاں، اپنی پڑھائی سب کچھ قربان کر کے آئی تھیں۔ کچھ نے تو کھیلنے کے لیے شادی نہیں کی تھی۔ مجھے ان کی جانوں کی بڑی فکر ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک اور کھلاڑی ہریر کہتی ہیں کہ افغانستان کی خواتین کی کرکٹ ٹیم کے لیے کھیلنے کا مطلب رن بنانے اور وکٹیں لینے سے کہیں زیادہ تھا۔ جب میں کھیلتی ہوں تو میں خود کو طاقتور خاتون محسوس کرتی ہوں۔ میرے میں خود اعتمادی آتی ہے اور مجھے خود پر فخر ہوتا ہے۔ میں خود کو ایک ایسی خاتون محسوس کرنے لگتی ہوں جو کہ کچھ بھی کر سکتی ہے اور اپنے خوابوں کو سچا کر سکتی ہے مگر ہریر اور ان کی ساتھی کرکٹروں کے لیے وہ خواب شاید اب ادھورے ہی رہ جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.