انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

فرار ہونے سے قبل اشرف غنی کا امریکی صدر جوبائیڈن سے آخری ٹیلیفونک رابطہ، دونوں کے درمیان کیا گفتگو ہوئی؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

بظاہر بائیڈن اور اشرف غنی دونوں ہی اس بات سے لاعلم نظر آتے تھے کہ طالبان جلد پورے ملک کے اقتدار پر کنٹرول حاصل کر لیں گے

فرار ہونے سے قبل اشرف غنی کا امریکی صدر جوبائیڈن سے آخری ٹیلیفونک رابطہ، دونوں کے درمیان کیا گفتگو ہوئی؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان پر طالبان کے کنٹرول سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے افغان ہم منصب اشرف غنی کے درمیان آخری ٹیلیفونک رابطے میں دونوں راہنماؤں نے فوجی امداد، اسٹریٹجی اور حکمت عملی پر بات کی تھی۔ انٹرنیشنل ادارے نے دعوی ہے کہ اس کے پاس دونوں راہنماں کی ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو کا متن ہے ادارے کا کہنا ہے بظاہر بائیڈن اور اشرف غنی دونوں ہی اس بات سے لاعلم نظر آتے تھے کہ طالبان جلد پورے ملک کے اقتدار پر کنٹرول حاصل کر لیں گے۔

دوسری جانب امریکا کے سابق فوجی افسراور اہلکار وں کی جانب سے بائیڈن انتظامیہ پر شدید تنقید کی جارہی ہے اور عوامی حلقوں میں بھی ان کی مقبولیت کو شدید دھچکا لگا ہے واشنگٹن میں سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آئندہ سال نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں حکمران جماعت ڈیموکریٹس کو شدید دھچکا پہنچنے کا خدشہ ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عوام سے ہرطرح سے رابط توڑنے کی کوشش کی گئی ہے مگر وہ ای میل اور خطوط کے ذریعے اپنا بیانیہ عوام تک پہنچا رہے ہیں ان کا خیال ہے کہ وہ 2024کے صدارتی انتخابات باآسانی جیت لیں گے کیونکہ بائیڈن انتظامیہ کی مقبولیت میں مسلسل کمی آرہی ہے اور ان کی عوامی مقبولیت چند ماہ کے دوران 7فیصد کمی کے ساتھ46فیصد تک آگئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 15 اگست کو اشرف غنی صدارتی محل سے بیرون ملک فرار ہو گئے تھے اور طالبان کابل میں داخل ہوئے اس وقت سے اب تک ہزاروں مایوس افغان ملک سے فرار ہو چکے ہیں اور انخلا کے اس عمل کے دوران کابل کے ہوائی اڈے پر ہونے والے دھماکے میں 13 امریکی فوجی اور درجنوں افغان شہری مارے گئے تھے. صدارتی فون کال کے ٹرانسکرپٹ کا جائزہ لیا اور گفتگو کی تصدیق کے لیے آڈیو کو سنا امریکی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ مواد نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک ذریعے نے فراہم کیا کیونکہ وہ اسے تقسیم کرنے کا مجاز نہیں تھا کال میں بائیڈن نے کہا تھا کہ اگر اشرف غنی عوامی سطح پر افغانستان میں بڑھتی ہوئی صورتحال کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ پیش کر سکتے ہیں تو وہ امداد کے لیے تیار ہیں.

جو بائیڈن نے کہا تھا کہ اگر ہمیں پتا ہو کہ منصوبہ کیا ہے تو ہم فضائی مدد فراہم کرتے رہیں گے مذکورہ کال سے کچھ دن پہلے امریکا نے افغان سیکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے فضائی حملے کیے تھے اور طالبان نے کہا تھا کہ یہ حملے دوحہ امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے امریکی صدر نے اشرف غنی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ آگے بڑھنے کی فوجی حکمت عملی کے طور پر طاقتور افغانوں کو خرید لیں اور وزیر دفاع بسم اللہ خان محمدی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغان صدر ایک طاقتور فرد کو ان افراد کا انچارج مقرر کردیں.

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.