انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

سونا دنیا بھر میں ملکی ذخائر کا حصہ کیوں ہوتا ہے؟ اس کو اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے؟ ذخائر کے لحاظ سے کون سا ملک سرفہرست ہے؟ تفصیلات منظر عام پر آگئیں

سونے کے ذخائر کے لحاظ سے امریکہ سر فہرست، سب سے زیادہ سونے کے ذخائر رکھنے دالے دس ملکوں کے پاس تین چوتھائی حصہ ہے

سونا دنیا بھر میں ملکی ذخائر کا حصہ کیوں ہوتا ہے؟ اس کو اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے؟ ذخائر کے لحاظ سے کون سا ملک سرفہرست ہے؟ تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق دنیا کے مختلف ملکوں کے پاس سونے کے ذخائر کے لحاظ سے امریکہ سر فہرست ہے جس کے پاس 8000 ٹن سے زائد سونے کے ذخائر ہیں۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے دس سب سے زیادہ سونے کے ذخائر رکھنے والوں کے پاس دنیا بھر کے سونے کا تین چوتھائی حصہ ہے۔ پاکستان کے پاس سونے کے ذخائر 64 ٹن ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں پڑوسی ملک انڈیا کے پاس 703 ٹن سونے کے ذخائر ہیں جو کسی ملک کے سینٹرل یا سٹیٹ بینک کے ذخائر کا حصہ ہوتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ملکوں کے سینٹرل بینک کے ریزروز کئی اقسام کے ہوتے ہیں جن میں سونے کے علاوہ دیگر غیر ملکی کرنسیاں وغیرہ بھی شامل ہوتی ہیں۔ پاکستان کے سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے پاس تقریبا 3.8 ارب ڈالر مالیت کے برابر سونا ذخائر میں موجود ہے اور یہ تقریبا ملک کے ریزروز یعنی مجموعی ذخائر کا 16.6 فیصد بنتا ہے۔

سلیم رضا نے بتایا کہ اگرچہ سونا عالمی تجارت کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے تاہم آج کے دور میں اس کی قیمت میں بہت زیادہ ردوبدل کی وجہ سے اب یہ عالمی تجارت کے لیے ایک ذریعے کے طور پر کم استعمال ہوتا ہے تاہم یہ مرکزی بینک کے ذخائر کا اہم حصہ ہوتا ہے اور آج بھی ایک قابلِ تجارت ذریعے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔دنیا بھر میں ملکوں کے مرکزی بینکوں کے پاس جہاں ڈالر اور دوسری غیر ملکی کرنسیوں کی صورت میں زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہوتے ہیں تو اس کے ساتھ سونا بھی ان ذخائر میں موجود ہوتا ہے۔ سونا ان ذخائر کا حصہ کیوں ہوتا ہے، اس کے بارے میں پاکستان کے مرکزی بینک کے سابق گورنر سلیم رضا نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سونے کا، ذخائر کا حصہ ہونے کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ڈالر کے عالمی تجارتی کرنسی بننے سے پہلے سونے میں عالمی تجارت ہوتی تھی۔ کسی ملک کے سونے کے ذخائر سے اس کی کرنسی جڑی ہوتی تھی تاہم ستر کی دہائی میں ڈالر نے عالمی تجارتی کرنسی کی حیثیت لے لی تاہم اس کے باوجود سونے کی افادیت برقرار رہی اور یہ آج بھی عالمی تجارت میں ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

کراچی میں انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن میں معاشیات کے استاد صائم علی نے اس سلسلے میں بتایا کہ یہ بات صحیح ہے کہ سونے کے ذخائر کا ایک تاریخی پس منظر ہے اور ڈالر نے اس کی جگہ عالمی تجارتی کرنسی کی جگہ لی ہے تاہم اس کی اہمیت پھر بھی برقرار ہے کیونکہ سونا ایک فزیکل اثاثہ ہے اور پیپر کرنسی کے مقابلے میں اس کی قدر آج بھی زیادہ سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے دنیا کے مختلف ممالک سونے کے ذخائر اپنے پاس رکھتے ہیں اور وہ کسی ملک کے مرکزی بینک کے ذخائر کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سونا ایک ایسا اثاثہ ہے کہ جسے بیچ کر فوری طور پر رقم کا بندوبست کیا جا سکتا ہے کیونکہ سونے کی عالمی مارکیٹ میں اہم قدر ہے اور یہ بطور اثاثہ جلدی بیچا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا سونا ایک دھات ہے اور کوئی بھی ملک عالمی مارکیٹ سے خرید کر اپنے ذخائر بڑھا سکتا ہے۔ عارف حبیب سیکورٹیز میں معاشی امور کی تجزیہ کار ثنا توفیق نے اس سلسلے میں بتایا کہ کسی ملک کے مرکزی بینک میں جہاں غیر ملکی کرنسیوں کی صورت میں ذخائر رکھے جاتے ہیں تو اسی طرح سونا بھی ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ڈالر، دوسری غیر ملکی کرنسیاں اور سونا سب مل کر ایک ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو دکھاتے ہیں۔ اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے ثنا توفیق نے بتایا کہ ایک دور تھا جب ایسا ہوتا تھا کہ کسی ایک ملک کے پاس سونے کے ذخائر کی مالیت کے برابر کرنسی نوٹ چھاپے جاتے تھے تاہم جب سونا مہنگا ہوتا گیا اور اسے بطور ذخائر کا حصہ بنانا مشکل ہوتا گیا تو پھر یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ اب کرنسی نوٹ کی چھپائی مارکیٹ میں ان کی طلب و رسد پر ہوتی ہے اور پاکستان میں بھی اب یہی ہوتا ہے کہ مرکزی بینک مارکیٹ میں طلب و رسد کی بنیاد پر کرنسی نوٹ چھاپتا ہے۔

سابق گورنر سٹیٹ بینک سلیم رضا نے کہا کسی ملک کے سونے کے ذخائر جب بیچنے پڑ جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ملک دیوالیہ ہو چکا ہے اور اس کے پاس بیرونی تجارت اور ادائیگیوں کے لیے اب رقم نہیں بچی۔ انھوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ برصغیر میں سونا گھروں میں زیورات کی صورت میں موجود ہوتا ہے اور جب کوئی گھر بہت زیادہ معاشی مصیبت کا شکار ہو جائے اور اسے کہیں سے مالی وسائل کی امید نہ رہے تو پھر خاندانی زیورات بیچ کر مالی بحران سے نکلا جاتا ہے تاہم یہ عمل ہمارے معاشرو ں میں بہت بدشگون سمجھا جاتا ہے۔ یہی معاملہ ملکوں کا ہے کہ جب کوئی ملک مالی بحران کی انتہا تک پہنچ جائے اور اس کے پاس بیرونی ادائیگیوں کے لیے پیسے نہ ہوں تو پھر سونے کے ذخائر کے ذریعے کام چلایا جاتا ہے، چاہے اس کے ذریعے بیرونی ادائیگی کی جائے یا پھر اسے بیچ کر ڈالر حاصل کر کے یہ کام کیا جائے۔

سلیم رضا نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی ایسا موقع نہیں آیا کہ جب ملک کو مالی بحران اور بیرونی ادائیگیوں کے لیے سونے بیچنا پڑا ہو تاہم انڈیا میں ایک بار ایسا ہوا اور اس کی وجہ سے ان کی مرکزی حکومت تک ختم ہو گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ نوے کی دہائی کے پہلے سال میں انڈیا کو اپنے مالی بحران کی وجہ سے سونا بیچنا پڑا اور اس کی وجہ سے مرکزی حکومت کے خلاف بہت زیادہ عوامی جذبات بھڑکے اور اسے جانا پڑا۔ اس کے بعد منموہن سنگھ بطور وزیر خزانہ آئے اور انھوں نے انڈین معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے اصلاحات کا آغاز کیا۔ ثنا توفیق نے بھی اس بات کی تصدیق کی کسی ملک کی جانب سے اپنے سونے کے ذخائر اس وقت ہی بیچے جاتے ہیں کہ جب کوئی اور راستہ اس کے پاس نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.